جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
نہر میں نہانے کے بعد کیاوضوء کرنےکاحکم ضروری
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
اگر کوئی شخص کسی نہر میں نہالے، وضوء نہ کرے تو اس کو نماز پڑھنے کے لیے وضو کرنا ہوگا یا نہانا کافی ہوگا؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر غسل جنابت ہے تو وضوء کی ضرورت نہیں ہے اور اگر ویسے ٹھنڈا ہونے کے لیے نہایا ہے غسل جنابت نہیں تھا تو نماز کے لیے وضوء کرنا ہوگا؟۔
واضح رہے کہ غسل سے پہلے وضوء کرنا مسنون ہے، جس کی وجہ سے غسل کے بعد دوبارہ وضوء کرنے کی بالکل ضرورت نہیں، البتہ اگر کسی نے غسل سے پہلے وضوء نہ کیا ہو، اور تمام بدن پر پانی ڈال کر غسل کرلیا تو اس صورت میں بھی غسل کے بعد وضوءکی ضرورت نہیں، اس لیے کہ تمام بدن پانی ڈالنے سے تر ہونے کے ساتھ ہی وضوء بھی ہوگیا، بلکہ غسل کے بعد وضوء نہیں کرنا چاہیے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں نہر میں نہانے کے بعد وضوء کی ضرورت نہ ہوگی، خواہ جنابت کا غسل کیا ہو، یا ویسے ہی غسل کیا ہو، البتہ اگر نیت کے بغیر غسل یا وضوء کیا جائے تو اس سے ثواب کم ہوجاتاہے۔
لمافی "سنن الترمذي":
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الغُسْلِ»، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَذَا قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالتَّابِعِينَ: أَنْ لَا يَتَوَضَّأَ بَعْدَ الغُسْلِ(أبواب الطهارة، بَابٌ فِي الوُضُوءِ بَعْدَ الغُسْلِ،1/179، ط: دار الغرب الإسلامي - بيروت)
وفی "مرقاة المفاتيح":
(وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ» ) : أَيِ: اكْتِفَاءً بِوُضُوئِهِ الْأَوَّلِ فِي الْغُسْلِ، وَهُوَ سُنَّةٌ، أَوْ بِانْدِرَاجِ ارْتِفَاعِ الْحَدَثِ الْأَصْغَرِ تَحْتَ ارْتِفَاعِ الْأَكْبَرِ ; بِإِيصَالِ الْمَاءِ إِلَى جَمِيعِ أَعْضَائِهِ، وَهُوَ رُخْصَةٌ، (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ) : أَيْ: وَهَذَا لَفْظُهُ، (وَأَبُو دَاوُدَ) : لَكِنْ بِمَعْنَاهُ، وَسَكَتَ عَلَيْهِ. قَالَ مِيرَكُ: وَلَفْظُهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَصَلَاةَ الْغَدْوَةِ، وَلَا أَرَاهُ يُحْدِثُ وُضُوءًا بَعْدَ الْغُسْلِ» ، (وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ) قَالَ ابْنُ حَجَرٍ: وَقَالُوا: وَلَا يُشَرَّعُ وُضُوءَانِ ; اتِّفَاقًا لِلْخَبَرِ الصَّحِيحِ: كَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ."( كتاب الطهارة، باب الغسل،2/430، ط دار الفكر، بيروت - لبنان)