جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
سفید بالوں کو کلر کرنے کا حکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کیا سفید بالوں کو کلر کرنا صحیح ہے؟۔
سفید بالوں کو کلر کرنا جائز ہے، البتہ خالص کالے رنگ کاخضاب لگاناجائز نہیں ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس کی ممانعت اور سخت وعیدآئی ہے، صرف حالتِ جہاد میں دشمن کو مرعوب رکھنے اور اس کے سامنے جوانی اور طاقت کے اظہار کے لیے کالا خضاب استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ابوداودشریف کی روایت میں ہے:"حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہؓ ارشادفرماتے ہیں: جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آخری زمانہ میں کچھ لوگ ہوں گے جوسیاہ خضاب لگائیں گے،جیسےکبوترکاسینہ،ان لوگوں کوجنت کی خوشبوبھی نصیب نہ ہوگی"۔
البتہ خالص کالے رنگ کے علاوہ دیگر رنگوں کے خضاب لگانا جائز ہے۔
یہی حکم آج کل بازار میں دست یاب بالوں کے جدید کلر (رنگ) کا بھی ہے یعنی خالص سیاہ (کالا) کلر بالوں پر لگانا ناجائز ہے، جب کہ کالے رنگ کے علاوہ دوسرے کلر مثلاً خالص براؤن ، سیاہی مائل براؤن یا سرخ(لال) کلر لگانا جائز ہے۔
لمافی "سنن النسائي":
أخبرنا عبد الرحمن بن عبيد الله الحلبي، عن عبيد الله وهو ابن عمرو، عن عبد الكريم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، رفعه أنه قال: «قوم يخضبون بهذا السواد آخر الزمان كحواصل الحمام، لايريحون رائحة الجنة(8/ 138)
وفی "صحيح مسلم":
وحدثني أبو الطاهر، أخبرنا عبد الله بن وهب، عن ابن جريج، عن أبي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال: أتي بأبي قحافة يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضاً، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم غيروا هذا بشيء، واجتنبوا السواد(3/ 1663)
وفی "الفتاوى الهندية":
اتفق المشايخ رحمهم الله تعالى أن الخضاب في حق الرجال بالحمرة سنة وأنه من سيماء المسلمين وعلاماتهم وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ رحمهم الله تعالى ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه وعليه عامة المشايخ(5/ 359)