جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
تسمیہ کے بجائے 786 لکھنےکاحکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
اکثر لوگ خطوط وغیرہ کے شروع میں بسم اللہ کے بجائے 786 کا ہندسہ لکھ دیتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے اور کیایہ بسم اللہ کے قائم مقام ہے؟۔
شریعت مطہرہ میں ہرعمل کو قرآن وسنت کے اصولوں کے مطابق پورا کرنے پر ثواب مرتب ہوتا ہے اور یہی چیز انسان کے اعمال میں ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے، اسی بنا پرفقہاے کرام نے قرآن کریم کی کسی آیت یا اس کے تراجم کو حروف ابجد میں لکھنے پر ثواب کے مرتب نہ ہونے پر فتوی دیا ہے، کیونکہ قرآن کریم نظم (لفظ)و معنیٰ کے مجموعے کا نام ہے۔ صرف نظم یعنی الفاظ یا صرف معنی پر قرآن کا اطلاق نہیں ہوتا لہذا قرآن پاک کی کسی آیت کو حروف امجد میں لکھنے یابسم الله الرحمٰن الرحیم کو 786 کے اعداد میں لکھنے پر ثواب نہیں ملےگا اور نہ ہی سنت ادا ہوگی، تاہم بے حرمتی سے بچنے کے لیے تسمیہ کی بجائے 786 کا عدد تسمیہ کی نشانی کے طور پر لکھنے میں رخصت ہے، البتہ جہاں بے حرمتی کا اندیشہ نہ ہو، وہاں پورابسم اللہ ہی لکھنا چاہیے۔ نیز 786 نہ یہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" ہے، اورنہ ہی یہ اس کے قائم مقام ہے،بلکہ یہ کاتب کی جانب سے ایک علامت ہے کہ اس نے ابتدا میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھی ہے؛ لہذا قاری بھی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ لے۔
لمافی "نورالانوار":
إن القرآن اسم للنظم والمعنى جميعا۔۔۔لاأنه إسم للنظم فقط،كما ينبئ عنه تعريفه بالإنزال، والكتابة،والنقل لاأنه اسم للمعنى فقط.( تعريف الكتاب وما يتعلق به 9)
وفی "حاشيةالطحطاوي":
يكره كتابة قرآن أو إسم الله تعالى على ما يفرش لما فيه من ترك التعظيم وكذا على درهم ومحراب وجدار لما يخاف من سقوط الكتابة.(باب الحيض والنفاس والاستحاضة، :148)