جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
ناخنوں میں میل جمع ہونے پر وضو اور غسل کا شرعی حکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ میں کام کاج میں اتنی مصروف ہوتی ہوں کہ بسا اوقات بھول جاتی ہوں اور ناخن نہیں کاٹ پاتی اور دو دو ہفتہ کے ناخن بڑے ہوجاتے ہیں اور ان میں میل جمع ہوجاتا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ کیا ناخنوں میں میل ہونے کی صورت میں میرا وضوء اور غسل ہوجائے گا؟۔
ناخنوں میں صرف میل کے ہونے سے وضو اور غسل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، لہذا اگر کسی کے ناخنوں میں میل جمع ہو جائے اور وہ اس حالت میں وضوء یا غسل کرلے تو اس کا وضوء اور غسل صحیح ہوجائے گا۔
لمافی "الھندیة":
وفي الجامع الصغير سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في أظفاره الدرن أو الذي يعمل عمل الطين أو المرأة التي صبغت أصبعها بالحناء، أو الصرام، أو الصباغ قال كل ذلك سواء يجزيهم وضوءهم إذ لا يستطاع الامتناع عنه إلا بحرج والفتوى على الجواز من غير فصل بين المدني والقروي.
(کتاب الصلوة:4/1، ط: دار الفکر)