جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
دو نکاح کے لیے ایک ہی خطبہ پڑھنے کا شرعی حکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
دو یا تین نکاح کے لیۓایک خطبہ پڑھنا کافی ھے یا ہر نکاح کے لیۓ الگ خطبہ پڑھنا ضروری ہے؟-
فقہ حنفی کے مطابق ایک ہی خطبہ کے ساتھ دو یا تین نکاح منعقد کرنا جائز ہے، کیونکہ خطبہ نکاح کے لیے شرط یا رکن نہیں بلکہ مستحب عمل ہے۔ خطبہ کا مقصد برکت حاصل کرنا اور لوگوں کو نکاح کی اہمیت اور سنت کی یاد دہانی کرانا ہے، نہ کہ یہ نکاح کے انعقاد کے لیے لازم ہو۔
لمافی "البحر الرائق":
"والخطبۃ سنۃ، ولیس من أركان النکاح ولا من شروطہ، فیکفی خطبۃ واحدۃ لأکثر من نکاح إن أرادوا ذلك(کتاب النکاح 3/ 12)
وفی "ردالمحتار":
"ویجوز جمع بین عقدین أو أکثر بخطبۃ واحدۃ لأن المقصود بالخطبة التذکیر، وهو یحصل بخطبة واحدة(کتاب النکاح 3/ 7)
وفی"الھندیة":
"ویجوز إقامة خطبۃ واحدۃ لعدة عقود لأنھا سنة لا یشترط تکرارھا(1/263)