جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
قرضہ معاف کرنےسےزکوةکی ادائیگی کاحکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
قرضدار کو قرض (اُدھار) معاف کرنے سے زکوة اداء ھوتے ہےیا نہیں؟۔
واضح رہے کہ قرضہ معاف کرنے سے زکوۃ اداء نہیں ہوتی کیونکہ زکوۃ میں مستحق کو با قاعدہ مالک و قابض بنا کر مال دینا شرط ہے ؛البتہ آپ اس ادمی کو زکوۃ کی رقم دیکر باقاعدہ اس کو اس کامالک بنا دیں اور پھر وہی مال اپنے قرضہ میں دوبارہ اس سے وصول کر لیں تو آپ کی زکوۃ اداء ہو جائے گی اور أس ادمی کو قرضہ سے خلاصی بھی مل جائیگی ، اور زکوۃ دینے والے کو یہ بتاناضروری نہیں ہے کہ میں یہ زکوۃ کی رقم آپ کو دے رہا ہوں بغیر بتائے بھی زکوۃ اداء ہو جاتی ہاں دل میں زکوۃ دینے کی نیت ضروری ہے۔
لما في "الدر المختار مع الرد المحتار:"
واعلم ان اداء الدين عن الدين والعين عن العين وعن الدين يجوز واداء الدين عن العين
وعن دين سيقبض لا يجوز ، وحيلة الجوازان يعطى مديونه الفقير زكاته ثم ياخذها عن دينه270.271/2 ط: سعید)
وفي "الهدايه":
ولا يجوز اداء الزكوة الا بنية مقارنه للاداء او مقارنة لعزل مقدار الواهب لان زكوة عبادة
فكان من شرائطها النية(188/1
ط: رحمانیه)
وفي "البزاريه على هامش الهنديه":
ولو نوى الزكاة فيما يدفعه الى صبيان اقاربه عيديا أو لمن يهدى اليه الباكورة أو يبشر
بقدوم فلان صديقه يجوز(82/4 ط: رشیدیه)
وفي "التنوير الابصار":
وهی تملیک جزء مال عينه الشارع من مسلم فقير غير هاشمي ولا مولاه مع قطع
المنفعة عن المملك من كل وجه(252/2 ط: سعيد)