جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
اگر ظہر کی چار سنتیں رہ جائیں تو کیا فرض کے بعد پڑھنے پر وہ سنت ہی رہتی ہیں؟
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
اگر کسی سےظہر سے پہلے کی چار سنتیں رہ گئیں تو آیا فرض کے بعد اسکو پڑھنا بطور سنت موکدہ ہی ہوگا یا وہ چار رکعتیں نفل بن جائیں گی؟۔
صورت مسئولہ میں جس شخص سےظہر کی چار رکعت سنتِ مؤکدہ رہ گئی ہوں تو ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ فرض نماز سے فارغ ہو کر پہلے دو رکعت سنتِ مؤکدہ ادا کرے، اس کے بعد چھوٹی ہوئی چار رکعت بطور سنت ادا کرے بعد میں پڑھی گئیں یہ چار رکعات سنت مؤکدہ ہی کہلائیں گی نفل نہیں۔
لمافی "الدر المختار وحاشية ابن عابدین":
(بخلاف سنة الظهر) وكذا الجمعة (فإنه) إن خاف فوت ركعة (يتركها) ويقتدي (ثم يأتي بها) على أنها سنة (في وقته) أي الظهر (قبل شفعه) عند محمد، وبه يفتى جوهرة.
(قوله: وبه يفتى) أقول: وعليه المتون، لكن رجح في الفتح تقديم الركعتين. قال في الإمداد: وفي فتاوى العتابي، أنه المختار، وفي مبسوط شيخ الإسلام أنه الأصح؛ لحديث عائشة «أنه عليه الصلاة والسلام كان إذا فاتته الأربع قبل الظهر يصليهن بعد الركعتين». وهو قول أبي حنيفة، وكذا في جامع قاضي خان اهـ والحديث قال الترمذي: حسن غريب، فتح.(کتاب الصلاۃ،باب ادراک الفریضہ2/59،ط:سعید)