جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مرغی کواذان دینےسے ذبح کرنا
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
اگر مرغی(مؤنث) اذان دے تو کیا اس کو ذبح کر دینا چاہیے؟۔
واضح رہےکہ مرغی کے اذان دینےکے متعلق لوگ مختلف قسم کےتوہمات کے شکار ہیں کہ یہ مرغی منحوس ہے نیز اگر اس مرغی کو ذبح نہ کیا جائے تو اس گھر میں کوئی نہ کوئی آفت ضرور آجاتی ہے؛اس لیے وہ اس مرغی کا ذبح ضروری سمجھتے ہیں ،جب کہ اس بات کا شریعت سے کہیں بھی ثبوت نہیں ہے ؛اس لیے صورتِ مسئولہ میں اگر مرغی کبھی اذان دے تو نہ اس میں نہ کوئی نحوست کی بات ہے اور نہ اس کا ذبح کرنا شرعاً ضروری نہیں ،بلادلیلِ شرعی غلط قسم کےنظریات وتوہمات سے اپنے قلب وذہن کو منزہ رکھنا چاہیے۔
لمافی "مسندِ احمد":
حدثنا عفان حدثنا أبو عوانة عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " لاطيرة، ولا عدوى، ولا هامة، ولا صفر"، قال: فقال رجل: يا رسول الله، إنا لنأخذ الشاة الجرباء فنطرحها في الغنم فتجرب؟، قال: "فمن أعدى الأول."(3/321، رقم الحدیث :3032، ط:دارالحدیث ۔القاھرة)
وفی "فتاویٰ محمودیة":
فتاویٰ محمودیہ میں اس قسم کے ایک سوال کے جواب میں ہے؟
"یہ کوئی نحوست کی بات نہیں،اس مرغی کو پالنا، اس کا انڈااستعمال کرنا، اس کا گوشت استعمال کرنا سب درست ہے۔
(18/236، ط:ادارۃ الفاروق کراچی)