جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
کسی تابعی کے لیے رضی اللہ عنہ لکھنےکاحکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
فضائل اعمال میں بہت سی جگہ امام اعظم ابو حنیفہ، عمر بن عبدالعزیز رحمة اللہ علیہ کے نام کےساتھ رضی اللہ عنہ لکھا ہوا ہے؟۔
برائے مہربانی اس کے متعلق رہنمائی فرمائیں۔
اگرچہ بہتر تو یہ ہے کہ صحابہ کے لیے ”رضی اللہ عنہ“ استعمال کیا جائے اور ائمہ و اولیاء کے لیے ”رحمة اللہ علیہ“ استعمال کیا جائے؛ لیکن غیر صحابہ کے لیے بھی ”رضی اللہ عنہ“ استعمال کرنا جائز ہے، اہلِ علم کے کلام میں یہ بھی ملتا ہے؛ اس لیے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ، عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ یا دیگر علماء اور اولیاء کے لیے اگر رضی اللہ عنہ استعمال کرلیا جائے تو اس میں کوئی مضایقہ نہیں گنجائش ہے، فضائلِ اعمال میں بھی اسی جواز کے قول پر عمل کیا گیا، یہ مطلب نہیں کہ ان دونوں بزرگوں کو ”صحابی“ قرار دے دیا گیا۔
لمافی "درمختار":
ویستحب الترضي للصحابة ․․․․․ والترحم للتابعین ومن بعدہم من العلماء والعباد وسائر الأخیار وکذا یجوز عکسہ وہو الترحم للصحابة والترضي للتابعین ومن بعدہم علی الراجح الخ ( 485/10 ط: زکریا)