جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
ایزی پیسہ سے قرض لینا
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
ایزی پیسہ سے قرض لینا کیسا ہے؟۔
ایزی پیسہ کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق قرض کی واپسی پر اصل رقم کے ساتھ اضافی رقم بھی سروسز چارجز کے نام سے وصول کی جاتی ہے اور اگر مقررہ مدت میں قرض کی رقم واپس نہ کی جائے تو تاخیر سے ادا کرنے کی وجہ سے بطورجرمانہ بھی کچھ اضافی رقم وصول کی جاتی ہے،یہ صورت شرعاسودی قرضہ میں داخل ہے، لہذا ایزی پیسہ سے قرض کا لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں۔
لمافی"اعلاء السنن":
"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو ھدیة فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".( باب کل قرض جرّ منفعة، کتاب الحوالة 14/513)
وفی"شامیہ":
"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاًحرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن".
(مطلب کل قرض جرنفعا، 5/166ط: سعید)