جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
ضرورت کے وقت جوتوں کے ساتھ مسجد کی چھت پر چڑھنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ بوقت ضرورت مسجد کی چھت پر جوتے پہن کر چڑھا جا سکتا ہے یا نہیں اس کا شرعی حکم کیا ہے؟۔
واضح رہے کہ زمین کا جو حصہ مسجد کے لئے وقف کر دیا جائے تو وہ حصہ”تحت الثریٰ“ سے لے کر آسمان تک مسجد ہی کا حصہ ہے؛ لہٰذا جو حکم مسجد کے اندر کے حصہ کا ہے، وہی حکم اس کی چھت کا بھی ہے، جس طرح مسجد میں جوتے پہن کر داخل ہونا خلاف ادب ہے اسی طرح مسجد کی چھت پر جوتے پہن کر چڑھنا بھی خلاف ادب ہے،اگر کبھی جوتوں کے ساتھ مسجد کی چھت پر جانے کی ضرورت ہو، تواس بات کااہتمام کیا جائے کہ جوتے پاک صاف ہوں،ان کے ساتھ کوئی نجاست نہ لگی ہو۔
لمافی "ردالمحتار:"
"أن دخول المسجد متنعلا من سوء الأدب تأمل.....(إلخ•)"
(كتاب الصلاة ،باب مايفسد الصلاة ومايكره فيها، 657/1 ط:ايچ ايم سعيد كراچي )
وفی"الدر مع الرد:"
وكره تحريما (الوطء فوقه، والبول والتغوط) لأنه مسجد إلى عنان السماء (واتخاذه طريقا بغير عذر)۔۔۔۔۔۔۔۔قوله بغير عذر) فلو بعذر جاز.....(إلخ•)"
(كتاب الصلاة ،باب مايفسد الصلاة ومايكره فيها 1/656 ط:ايچ ايم سعيد كراچي)
وفی"البحرالرائق:"
"قال في التجنيس وينبغي لمن أراد أن يدخل المسجد أن يتعاهد النعل والخف عن النجاسة ثم يدخل فيه احترازا عن تلويث المسجد وقد قيل دخول المسجد متنعلا من سوء الأدب.....(إلخ•)" (كتاب الصلاة، باب مايفسدالصلاةومايكره فیها،فصل استقبال القبلةبالفرج فی الخلاء واستدبارها 2/37ط:دار الكتاب العلمية)