جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مالدار مہتمم مدرسے کیلئے زکاة لینے کاحکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ مالدار مہتمم اپنا مدرسہ چلانے کے لئے زکات لے سکتا ہے یا نہیں؟۔
واضح رہے کہ مدرسے میں اگر زکات کے مستحق طلبہ زیرِ تعلیم ہوں، اور ان پر زکات کی رقم خرچ کی جاتی ہو (مثلاً انہیں امدادی وظائف جاری کیے جاتے ہوں یا ان کے علاج معالجہ اور کھانے وغیرہ کا انتظام کیا جاتا ہو) تومدرسےکا مہتمم (مالدار ہو یا غیر مالدارہو)مدرسے کے طلبہ کے وکیل کی حیثیت سے ان کے لئے زکات کی رقم جمع کرسکتا ہے،اس رقم کو مدرسہ کے طلبہ کی ضروریات مثلاً: کھانے، پینے، علاج معالجہ اور دیگر ضروریات میں بحسب شرائط خرچ کرنا لازم ہو گا،الغرض مدرسہ کا مہتمم مالدارھونے کی وجہ سےبھی مدرسہ کے طلبہ کے لئے زکات، صدقات وغیرہ وصول کر سکتا ہے۔البتہ اگر مہتمم خود مالدار ھو تو اپنے لئے زکاة نہیں لےسکتاھے۔
لمافی"البحر الرائق":
" وبه يعلم حكم من يجمع للفقراء ومحله ما إذا لم يوكلوه فإن كان وكيلا من جانب الفقراء أيضا فلا ضمان عليه فإذا ضمن في صورة الخلط لا تسقط الزكاة عن أربابها فإذا أدى صار مؤديا مال نفسه ھكذا في التجنيس".
(کتاب الزکاۃ227/6 ط:دار المعرفة)
وفی"بداٸع الصنائع":
أمّا قولُہ تعالٰی: ”وفي سبیلِ اللہ“ عبارةٌ عن جمیعِ القُرَبِ فَیَدْخُلُ فیہ کلُ مَنْ سَعیٰ في طاعةِ اللہ تعالیٰ، وسبیلِ الخیراتِ اذا کان محتاجًا․ (154/2)