جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
جماعت کے دوران (وقت) صف میں سنت پڑھنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ جماعت کے دوران صف میں سنت پڑھنا کیسا ہے؟۔
جماعت کے دوران صف میں (یعنی جن صفوں میں نمازی فرض نماز ادا کررہے ہوں، یا صفیں وہاں تک پہنچنے والی ہوں) توامام کےپیچھےسنتِ فجر پڑھنا سخت مکروہ ہے، ایسی صورت میں کسی ستون وغیرہ کی آڑ میں یا صفوں سے پیچھے ہٹ کر سنتِ فجر پڑھنی چاہیے۔
حنفیہ کے مسلک کی تفصیل یہ ہے کہ اگر فجر کی سنتوں کی ادائیگی کے بعد امام کے ساتھ فرض نماز کا قعدہ اخیرہ مل سکتا ہےتوبھی سنت نہ چھوڑےاگر اس کی بھی امید نہ ہو تو پھر سنت اس وقت نہ پڑھے۔
لمافی"شرح مشكل الآثار":
"عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ركعتا الفجر خير من الدنيا وما فيها.
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لاتتركوا ركعتي الفجر وإن طردتكم الخيل".
(10/ 320،321)
وفی"مصنف عبد الرزاق الصنعاني":
عن أبي إسحاق، عن عبد الله بن أبي موسى قال: «جاءنا ابن مسعود والإمام يصلي الفجر، فصلى ركعتين إلى سارية، ولم يكن صلى ركعتي الفجر(4021)
وفی"شامی":
وأشدها كراهة أن يصليها مخالطا للصف مخالفا للجماعة والذي يلي ذلك خلف الصف من غير حائل اهـ ومثله في النهاية والمعراج۔(377/1)