جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
شیعہ(روافض)کامسلمانوں کی جماعت میں شرکت ودیگر نمازیوں کی نماز کاحکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کوئی شیعہ سنی کی جماعت میں شریک ہوجائے تو کیا باقی سارے لوگوں کی نماز میں فرق پڑے گا؟۔
واضح رہے کہ ابلادالھند
میں مثلاََ: پاکستان ؛ بنگلہ دیش؛ اور ھندوستان ؛میں جو شیعہ پائے جاتے ہیں، وہ عام طور پر اثناعشری ہیں، اور اثنا عشری شیعہ اپنی کتب مذہب کی روشنی میں بعض ایسے عقائد رکھتے ہیں، جو بلاشبہ کفریہ ہیں، جیسے: یہ لوگ امت مسلمہ کے درمیان موجودقرآن کریم کو ناقص ،محرف اورغیر معتبر مانتے ہیں، حضرت عائشہ صدیقہ پر - العیاذ باللہ - زنا کی تہمت لگاتے ہیں اور قرآن پاک میں اماں عائشہ رضی اللہ عنھاکی براءت نہیں مانتے، حضرت ابوبکر صدیق کی صحابیت کا انکار کرتے ہیں اور وحی پہنچانے میں حضرت جبریل علیہ السلام کی طرف غلطی کی نسبت کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ، یہ عقائد بلا شبہ کفریہ عقائد ہیں ، ان میں واضح طور پر ضروریات دین کا انکار ہے؛ اس لیے اہل حق علما کے نزدیک اثنا عشری شیعہ کافر ومرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں، ان سے کسی طرح کا ربط وضبط وغیرہ نہیں رکھنا چاہیے اور نہ انھیں مسلمانوں کی مساجد میں آنے کی اجازت دینی چاہیے۔ اور اگر کسی شیعہ نے اتفاقی طور پر مسلمانوں کی مسجد میں پہنچ کر ان کے ساتھ نماز پڑھ لی تو مسلمانوں کونماز لوٹانے کا حکم نہ ہوگا؛ البتہ آئندہ خیال رکھیں۔
لمافی"ردالمحتار":
لا شک في تکفیر من قذف السیدة عائشة رضي اللہ عنھا أو أنکر صحبة الصدیق أو اعتقد الألوھیة في علي أن جبریل غلط فی الوحي أو نحو ذلک من الکفر الصریح المخالف للقرآن (کتاب الجھاد، باب المرتد،378/6 ط: مکتبة زکریا دیوبند)
وفی"الفتاوی الھندیة":
ویجب إکفار الروافض في قولھم برجعة الأموات إلی الدنیا وبتناسخ الأرواح وبانتقال روح الإلہ إلی الأیمة وبقولھم في خروج إمام باطن وبتعطیلھم الأمر والنھي إلی أن یخرج الإمام الباطن وبقولھم إن جبریل علیہ السلام غلط فی الوحي إلی محمد صلی اللہ علیہ وسلم دون علي بن أبي طالب رضي اللہ عنہ۔ وھوٴلاء القوم خارجون عن ملة الإسلام وأحکامھم أحکام المرتدین کذا فی الظھیریة ( کتاب السیر، الباب التاسع في أحکام المرتدین، مطلب موجبات الکفر أنواع،426/2 ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)
نیز: باقیات فتاوی رشیدیہ (۲۹۷،۵۹۵،۵۹۶)