جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مشکلات اور مصائب دور کرنے کے لیئے پرندوں کو دانہ ڈالنے کا حکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ مشکلات اور مصائب دور کرنے کےلیئے پرندوں کو دانہ ڈالنا کیسا ہے؟۔
واضح رہے پرندوں کو دانہ ڈالنا صدقہ کے زمرے میں آتا ہے؛ اس لیئے اس نیت سے پرندوں کو دانہ ڈالنا کہ اللہ تعالٰی اس صدقہ کی برکت سے میری مشکلات دور کردے تو یہ جائز ہے؛ البتہ عام حالات میں بہتر یہی ہے کہ کسی مستحق مسلمان کو صدقہ دے دیا جائے، خصوصًا جب مستحق مسلمان کو زیادہ ضرورت ہو تو ایسی صورت میں اس کی بجائے بلا ضرورت پرندوں کو دانہ ڈالنا مناسب نہیں۔
لمافی"سنن أبي داود:"
"حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَنِي فَنَزَلَ الْبِئْرَ، فَمَلَأَ خُفَّهُ فَأَمْسَكَهُ بِفِيهِ، حَتَّى رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ». فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا؟ فَقَالَ: «فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ»۔۔۔۔۔(إلخ)"
(بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْقِيَامِ عَلَى الدَّوَابِّ وَالْبَهَائِمِ2550)