جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
احرام میں محرِم کاکسی دوسرےکےبال کاٹنے کاحکم
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ محرم آدمی احرام کی حالت میں کسی دوسرے کے بال کاٹ سکتا ہے؟۔
واضح رہےاگر کوئی شخص حالتِ احرام میں کسی شخص کے بال کاٹ دیتا ہے تو ایسے شخص کے اوپر صدقہ کرنا لازم ہوتا ہے، صدقہ سے مراد صدقہ فطر یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت کے برابر صدقہ کرنا واجب ہوگا؛ لیکن اگر بال کاٹنے والا خود بھی افعالِ عمرہ یا حج سے فارغ ہو گیا ہو، صِرف بال کاٹنا/حلق کروانا باقی ہو اور ایسی حالت میں اُس نے کسی کے بال کاٹ دیئے تو اس پر کچھ لازم نہ ہو گا ؛لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر محرم کے افعالِ حج یا عمرہ مکمل نہیں ہوئے تھے اور اس نے کسی اور کے بال کاٹ دیئے تو اس پر صدقہ کرنا لازم ہوگا اور اگر افعالِ حج یا عمرہ مکمل کر لینے کے بعد حلق کروانے سے پہلےاس نے کسی کے بال کاٹے ہوں تو کچھ لازم نہ ہو گا۔
لما فی”الجوهرةالنيرة:“
"وإن حلق المحرم رأس غيره أو قص أظافير غيره فعليه صدقة.....(الخ)"(باب الجنایات فی الحج،1/ 169 ط: المطبعة الخیریة)
وفی”مجمع الأنهر:“
"حلق (رأس غيره) بأمره أو بغير أمره فعلى الحالق صدقة.....(الخ)"( 1/293، ط: دارإحیاء التراث العربي)