جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
سردی کی شدت کی وجہ سے غسل کی جگہ تیمم کرنا
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ سخت سردی کی وجہ غسل کیئے بغیر تیمم کرکے نماز پڑھی جا سکتی ہے؟۔
واضح رہے اگر کوئی شخص بیمار ہو اور سردی میں پانی سے غسل کرنے کے باعث جان جانے، یا کسی عضو کے تلف ہونے یا مرض کے بڑھ جانے کا خوف ہو تو ایسی صورت میں تیمم کرنے کی اجازت ہوگی؛ لیکن اگر بیماری نہ ہو اور بیماری کا محض اندیشہ ہو تو اس صورت میں تیمم کی اجازت نہ ہو گی، اسی طرح اگر سردی میں پانی گرم کرنے کا انتظام موجود ہو، یا غسل کے بعد حرارت حاصل کرنے کا انتظام ہو تو تیمم کی اجازت نہیں ہوگی؛ لیکن اگر واقعتًا غسل سے بیماری کے بڑھنے کا یقین ہو یا اہلِ تجربہ کا غالب گمان ہو تو ایسی صورت میں تیمم کرکے نماز پڑھی جاسکتی ہے ۔
لمافی" الھندیة:"
وإذا خاف المحدث إن توضأ أن يقتله البرد أو يمرضه يتيمم. هكذا في الكافي. واختاره في الأسرار. لكن الأصح عدم جوازه إجماعاً، كذا في النهر الفائق. والصحيح أنه لا يباح له التيمم.
ولو كان يجد الماء إلا أنه مريض يخاف إن استعمل الماء اشتد مرضه أو أبطأ برؤه يتيمم.....(الخ)(1/28)