جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
جس دن سفر پر جانا ہو اس دن کے روزے کا حکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کہ اگر میں سحری اپنے گھر پر کروں اور بعدمیں میرا سفر ہو تو مجھے روزہ رکھنا ہے یا نہیں؟۔
واضح رہے اگر آپ صبح صادق (سحری ختم ہونے کے وقت) سفر میں نہ ہوں تو آپ پر روزہ رکھنا فرض ہوگا اور چھوڑنا جائز نہیں ہوگا اگرچہ دن میں سفر کرنے کا پختہ ارادہ ہو؛ البتہ اگر صبح صادق سے پہلے آپ سفر پر نکل چکے ہوں تو اس صورت میں آپ کو سفر کی وجہ سے روزہ چھوڑنے کا اختیار ہوگا؛ لیکن بعد میں قضاء رکھنا پڑے گا دورانِ سفر بھی افضل یہی ہے کہ اگر زیادہ مشقت کا اندیشہ نہ ہو تو روزہ نہ چھوڑا جائے۔
لمافی "الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)":
(كما يجب على مقيم إتمام) صوم (يوم منه) أي رمضان (سافر فيه) أي في ذلك اليوم۔
(قوله: كما يجب على مقيم إلخ) لما قدمناه أول الفصل أن السفر لا يبيح الفطر، وإنما يبيح عدم الشروع في الصوم، فلو سافر بعد الفجر لا يحل الفطر.(2/431)