جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
احرام کی حالت میں ماسک لگانے سے دم دینا ہوگایا نہیں؟
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ احرام کی حالت میں ماسک لگانے سے دم دینا ہوگا یا نہیں؟۔
مروجہ ماسک چوں کہ چہرے کے چوتھائی یا اس سے زیادہ حصہ کو چھپالیتا ہے، لہذا اگر کوئی شخص (خواہ مرد ہو یا عورت) احرام کی حالت میں مروجہ ماسک سے چوتھائی چہرہ یا اس سے زیادہ چھپاکر پورا دن یا پوری رات (یعنی بارہ گھنٹۓ) پہنے رکھے تو اس صورت میں دم دینا لازم ہوگا، اور اس سے کم پہننے کی صورت میں صدقہ لازم ہوگا، بلا عذر ماسک پہننے والا گناہ گار ہوگا، البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے پہنا ہو تو گناہ نہ ہوگا، تاہم دم یا صدقہ کا وجوب تفصیل بالا کے مطابق بہر صورت ہوگا؛ لہٰذا عمرہ کرنے والے شخص کو ماسک پہننا مجبوری ہو تو اسے چاہیے کہ وہ وقتًا فوقتًا ماسک اتارتا رہے، یا چوتھائی چہرہ نہ چھپائے؛ تاکہ چوتھائی چہرہ چھپائے ہوئے بارہ گھنٹے پورے نہ ہوں۔
لمافی"غنية الناسك:"
"و أما تعصيب الرأس و الوجه فمكروه مطلقاً، موجب للجزاء بعذر أو بغير عذر، للتغليظ إلا ان صاحب العذر غير آثم".
( باب الإحرام، فصل في مكروهات الإحرام،91 ط: إدارة القرآن)
وفيه "أيضًا":
و لو عصب رأسه أو وجهه يومًا أو ليلةً فعليه صدقة، إلا ان يأخذ قدر الربع فدم(باب الجنايات، الفصل الثالث: في تغطية الرأس و الوجه، 254 ط: إدارة القرآن)