جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مسجد کے بجائے گھر میں نماز پڑھنے کے وقت اذان واِقامت کرنا کیسا ہے
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں!
گھر میں کسی ساتھ مسجد میں اذان ہوئی ہے، پر نماز باجماعت نہیں پڑھ سکے، اب گھر جا کر خود سے اکیلے نماز پڑھ رہے ہیں، تو اس صورت میں اذان اور اقامت کے بارے میں کیا کرنا ہوگا خود سے اذان اور اقامت پڑھنی ہوگی یا کوئی اور صورت ہے؟۔
واضح رہےفرض نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے؛لہذاصورت مسئولہ میں مسجد کی اذان واقامت کافی ہے، گھر میں اذان واقامت کے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں، لیکن افضل اور مستحب یہ ہے کہ اذان و اقامت کے ساتھ جماعت کی نماز پڑھی جائے، تاکہ جماعت کی مشابہت حاصل ہوجائے۔
لمافی "الشامیة":
"وکرہ ترکہما معًا․․․ بخلاف مصل ولو بجماعة في بیتہ بمصر أو قریة لہا مسجد فلا یکرہ ترکہما إذ أذان الحي یکفیہ: لأن أذان المحلة وإقامتہا کأذانہ وإقامتہ․․․ اھ ".
( کتاب الصلاة باب الأذان: 63/2، ط: زکریا دیوبند)