جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
جی پی(پراویڈنٹ) فنڈ پر زکوۃکاحکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
ایک آدمی سرکاری ملازم ہے ،اور وہ صاحب نصاب ہے،اس کا جو جی پی فنڈ ہے، اس کو زکوۃ کے نصاب کے ساتھ شمار کرے گا یا نہیں؟۔
واضح رہے کہ "جی پی فنڈ"وصول کرنے سے پہلے ملازم اس کا مالک نہیں ہوتا چنانچہ اس کو مالکانہ تصرف کا اختیار حاصل نہیں ہوتا ،اس لیے یہ دین ضعیف کے حکم میں ہوکروصولی سے قبل اس میں زکوۃ واجب نہیں اور نہ ہی اسں میں اس کو ما لکانہ تصرف کا اختیار ہوتا ہے ،اس لیے یہ دین ضعیف کے حکم میں ہو کر وصولی کے بغیر زکوۃ واجب نہیں؛لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جی پی فنڈ کی وصولی سے قبل زکوۃ کے نصاب کے ساتھ شمار نہیں کیا جا ئیگا ،تاہم جب یہ رقم وصول ہوجائے تو اگر وہ شخص پہلے سے صاحب نصاب نہ ہو تو فوری طور پر اس کی زکوۃ واجب نہیں ہوتی،بلکہ جب سال گزر جائے تو زکوۃ ادا کرنا واجب ہوگا ،البتہ اگر وہ پہلے سے صاحب نصاب ہو اور اس کو یہ رقم مل جا ئے تو نصاب پر سال گزرنے کے وقت اس رقم کی زکوۃ بھی ادا کرے گا اس رقم پر الگ سے سال گزر جانا ضروری نہیں ۔
لمافی:"البحرالرائق"
والمراد بکونہ حولیا یتم الحول علیہ وھو فی ملکہ لقولہ علیہ السلام :لازکوۃفی مال حتی یحول علیہ الحول۔(کتاب الزکوۃ، تحت قولہ"وملک نصاب حولی"2/356)
وفی: "بدائع الصنائع"
وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث، أو بصنعه كما لوصية، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن القصاص، وبدل الكتابة ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض(بدائع الصنائع ،فصل في الشرائط اللتی ترجع الی المال 2/392)