جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
طواف کےبعد دو رکعت پڑھنےکاحکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
جب ہم عمرہ کا طواف کرتے ہیں اور طواف مکمل ہونے کے بعد دو رکعت پڑھتے ہیں تو کیاوہ دو رکعت سنت ہے ،یا نفل ہے، یا واجب ،کیا دو رکعت نہ پڑھنے سے طواف ادا نہیں ہوگا، اور عمرے پر کچھ اثر پڑے گا؟۔
ہر طواف کے سات چکروں کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے،چاہے طواف فرض، ہو یا نفل، اورحرم شریف میں پڑھنا سنت ہے،اورمقام ابراہیم اور بیت اللہ کو سامنے لےکر پڑھنا افضل ہے۔ اگر وہاں جگہ نہ ملے تو پوری ”مسجدالحرام“میں کہیں بھی پڑھ سکتے ہیں،اگر کسی نے یہ دو رکعت ”مسجد الحرام“ میں نہیں پڑھی تو اس کو جہاں کہیں بھی ادا کرے،ادا کرنا واجب ہے،جب تک ادا نہیں کرے گا ذمہ سے ساقط نہیں ہوں گی، اگردوگانہ طواف پڑھنا بھول گیا اور اپنے وطن واپس پہنچ گیا تو اپنے وطن میں ہی یہ دو رکعت پڑھ لے، اس پر تاخیر کی وجہ سے دم لازم نہیں آئے گا اور نماز پڑھنے کا واجب ادا ہوجائے گا،باقی اگر یہ دو رکعت نہ پڑھے تو بھی عمرہ ادا ہوجائے گا،لیکن اس عمل کو ترک کرنے کی صورت میں گناہ گار ھے۔
لمافی:"الشامیة"
"(وختم الطواف باستلام الحجر استنانا ثم صلى شفعا)في وقت مباح (يجب) بالجيم على الصحيح (بعد كل أسبوع عند المقام) حجارة ظهر فيها أثر قدمي الخليل (أو غيره من المسجد).(كتاب الحج،فصل في الإحرام وصفة المفرد، 2/497،ط:دار الفكر بيروت)
وفی:"إرشاد السارى"
"وهي " أى صلاة الطواف واجبة بعد كل طواف فرضًا كان أو واجبًا ، أو سنة أو نفلاً ولا تختص بزمان ولامكان ، أى باعتبار الجواز والصحة ، ولاتفوت فلو تركها لم تجبر بدم ولو صلاها خارج الحرم ولو بعد الرجوع إلى وطنه جاز ويكره ، والسنة الموالاة بينهما وبين الطواف ، وتستحب مؤكدًا أدائها خلف المقام ... ثم فى الكعبة ثم فى الحجر تحت الميزاب ثم كل ما قرب من الحجر إلى البيت ثم باقى الحجر ثم ما قرب من البيت ثم المسجد ثم الحرم ، ثم لا فضيلة بعد الحرم ، بل الإساءة ... )."
(باب أنواع الأطوفة وأحكامها،218، ط: الإمدادية ، مكة المكرمة )