جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
بیعت طریقت کا ثبوت قرآن وحدیث کی روشنی میں
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کیا قران و حدیث کی روشنی میں بیعت کا ثبوت ہے یا نہیں؟۔
واضح رہے کہ بیعت کی حقیقت یہ ہے کہ کسی صالح ومتدین بزرگ کے سامنے اپنے گناہوں سے توبہ کرنا اور نفس کو رذائل سے پاک کرنے اور فضائل سے مزین کرنے کا عہد کرناہے،قرآن و حدیث میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور حضرات صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر جیسے اسلام، جہاد، خلافت، پر بیعت کی، اسی طرح طاعات بجالانے اور مختلف معاصی سے اجتناب کرنے کا عہد بھی کیا
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آنے والی یہ عورتیں پہلے سے مشرف بہ اسلام تھیں، جہاد وغیرہ کا بھی موقع نہ تھا لہذا معلوم ہواکہ یہ بیعت طریقت تھی۔
نیز اسی طرح کئی احادیث سے بھی بیعت کا ثبوت ملتا ہےچنانچہ بخاری شریف میں حضرت جریر بن عبداللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی، اسی طرح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع واطاعت (یعنی آپ کی ہر بات ماننے اور اس پر عمل کرنے) پر بیعت کی۔ لہذا بیعت کا ثبوت قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ البتہ بیعت ہونا فرض، یا واجب، نہیں بلکہ سنت ہے، البتہ دین کے راستہ پر چلنا اور نفس کا تزکیہ اور اصلاح کرانا فرض ہے۔ اور کسی متبع سنت و شریعت پیر سے بیعت ہونا اسی اصلاح کا ایک ذریعہ ہے۔
لمافی: "بخاری"
عن جرير بن عبد الله، قال: بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على إقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والنصح لكل مسلم
(كتاب الصلاة، باب البيعة على اقام الصلاة، 1/111 ط:دار طوق النجاة)
وفیہ ایضاً
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، قال: كنا إذا بايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة(کتاب الاحكام، باب: كيف يبايع الإمام الناس، 9/77 ط:دار طوق النجاة)
وفی:"شفاء العلیل"
بیعت سنت ہے، واجب نہیں، اس واسطے کہ اصحاب رضی اللہ عنہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور اُس کے سبب سے حق تعالیٰ کی نزدیکی چاہی اور کسی دلیلِ شرعی نے تارکِ بیعت کے گنہگار ہونے پر دلالت نہ کی اور ائمہ دین نے تارکِ بیعت پر انکار نہ کیا، تو یہ عدمِ انکار گویا اجماع ہوگیا اس پر کہ وہ واجب نہیں(القول الجمیل، 18 ط:سعید)