جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
جی پی (پراویڈنٹ )فنڈ کی شرعی حیثیت
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
اگر جی پی فنڈ جمع کرنا آدمی کے اختیار میں ہو،اور جمع کرنے سے پہلے ادارہ اس کے ساتھ پہلے سے فکس بھی کرے کہ ہم اس کو ڈبل کرکے واپس دیں گے،یا مثلاً 40 پرسنٹ زیادہ دیں گے تو کیا یہ سود ہوگا کہ نہیں؟ اور اگر جی پی فنڈ کا جمع کرنا ملازم کے اختیار میں نہیں ہوتا، لیکن کمپنی پہلے سے فکس کرلے کہ ہم ڈبل دیں گے تو اس کا کیا حکم ہے؟۔
جی پی(پراویڈنٹ) فنڈ کی دو صورتیں ہیں: (1) اختیاری (2) جبری۔
(1)اگر جی پی فنڈ کا جمع کرنا ملازم کے اختیار میں ہو اور ملازم اپنے اختیار سے کٹوتی کروائے اور اس رقم پر اضافہ مل جائے کمپنی یا ادارہ کی طرف سے کہ ہم اس کو ڈبل کرکے واپس کریں یا چالیس فیصد زیادہ کرکے دیں یا انشورنس میں ڈال کر اس پر اضافہ دیں گے تو اس اختیاری جی پی فنڈ کا حکم یہ ہے، کہ اصل رقم حلال ہے، اصل رقم کے علاوہ کمپنی اپنی طرف سے جو رقم شامل کررہی ہے،اس کا لینا بھی جائز ہے۔ لیکن اصل اور کمپنی کی طرف سے شامل کردہ رقم کو کمپنی یا ادارہ، انشورنس کمپنی یا بینک میں جمع کرے تو اس انشورنس یا سود والی اضافی رقم کا حکم یہ ہے، کہ چونکہ یہ جی پی فنڈ اختیاری ہے، اس صورت میں کمپنی یا ادارہ ملازم کے لیے وکیل بن جائے گا، اور وکیل کا قبضہ موکل کا قبضہ ہوتاہے؛لہٰذا بیمہ کمپنی یا بینک میں رقم منتقل ہونے کے بعد ملازم اس رقم کا مالک بن جائے گا، اب اس رقم پر جو اضافہ کے ملے گا وہ شرعاً سود ہی ہے، اس کا استعمال ملازم کے لیے ناجائز ہے۔
(2)اگر جی پی فنڈ کا جمع کرنا آدمی کے اختیار میں نہ ہو اور کمپنی یا ادارہ جی پی فنڈ کی مد میں پیسے کاٹے اور اصل پیسے کے بجائے دوگنے پیسے دے یا اس سے زیادہ دے تو یہ اصل رقم حلال ہے اور اس پر اضافہ سود کے زمرے میں نہیں آتا، اس میں ملازم کا عمل دخل نہیں ہے اور یہ ملازم کے لیے عطیہ کی طرح ہے، اس کا لینا ملازم کے لیے جائز ہے۔
لمافی:"البحرالرائق"
(قوله: بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لايملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة، والمراد أنه لايستحقها المؤجر إلا بذلك، كما أشار إليه القدوري في مختصره، لأنها لو كانت دينًا لايقال: إنه ملكه المؤجر قبل قبضه، وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها، فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه، وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر، كذا في المحيط. لكن ليس له بيعها قبل قبضها".(7/ 300، ط: دارالكتاب الإسلامي)
وفی: "شامیة"
"مطلب: كل قرض جر نفعًا حرام
(قوله:كل قرض جر نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا، كما علم مما نقله عن البحر". (رد المحتار 5/ 166، ط: سعيد)
وایضا
"فضل خال عن عوض بمعيار شرعي وهو الكيل والوزن فليس الذرع والعد بربًا مشروط ذلك الفضل لأحد المتعاقدين في المعاوضة". ( :5/ 128. 129، ط: سعيد)