جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
میت کو دفن کرنےکے بعداجتماعی دعاکرنے کاحکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
میت کو دفن کرنے کے بعداجتماعی دعا کرسکتے ہیں؟۔
واضح رہے کہ میت کی تدفین کے بعد جوعمل احادیث میں وارد ہے وہ یہ ہے کہ حضور ﷺ جب تدفین سے فارغ ہوتے تو قبر پر کھڑے رہتے اور فرماتے کہ اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اس کے لئے ثابت قدمی کی دعا کرو؛ کیوں کہ اس سے اب سوال کیا جائے گا۔
اسی طرح میت کو دفن کرنے کے بعد قبلہ رخ ہوکر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کرکے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا جائز ہے۔
لہذا تدفین کے بعد قبر پر قبلہ رخ ہوکر دعا کرنی چاہیے، یہ دعا انفرادًا بھی کی جاسکتی ہے، اور اجتماعًا بھی، اور بہتر ہے کہ یہ دعا سرًّا ہو، البتہ جہرًا بھی کی جاسکتی ہے۔
لمافی "مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح":
’’عن ابن مسعود قال: والله لكأني أرى رسول الله في غزوة تبوك، وهو في قبر عبد الله ذي البجادين وأبو بكر وعمر، يقول: أدنيا مني أخاكما، وأخذه من قبل القبلة حتى أسنده في لحده، ثم خرج رسول الله وولاهما العمل، فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعاً يديه يقول: اللّٰهم إني أمسيت عنه راضياً فارض عنه، وكان ذلك ليلاً، فوالله لقد رأيتني ولوددت أني مكانه‘‘.(452/5)
وفی ایضا:
"قال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا فرغ من دفن الميت وقف عليه، فقال: " استغفروا لأخيكم، ثم سلوا له بالتثبيت، فإنه الآن يسأل» رواه أبو داود."
(کتاب الایمان باب اثبات القبر 1/216،دار الفکر)