جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
تبلیغ میں عورتوں کا نکلنا
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
کیا عورتوں کا تبلیغ جماعت میں اپنے محرم کے ساتھ جانا درست ہےیا نہیں؟۔
واضح رہےکہ دعوت تبلیغ کا مروجہ طریقہ اصلاح نفس کاایک بہترین طریقہ ہے؛اصلاح نفس یا امت محمد ﷺ کی اصلاح کی فکرمندی صرف مردوں کا فریضھ نہیں،بلکہ مردوں کی طرح عورتیں بھی اس میں پوری طرح شریک ہیں ،چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں آپ کے محفل میں مردوں کی طرح عورتیں بھی حاضر ہوتیں،نیز رسول اللہ ﷺ خواتین کو مستقل وقت دے کر ان کو اللہ تعالی کےدین کے احکام سکھاتے ،احادیث کے ذخیرہ میں متعدد واقعات پائے جاتے ہیں کہ عورتوں نے دربار نبوی ﷺ سے فیض یاب ہوکر دوسری عورتوں کو احکام پہنچا کر ان کی زندگی
سنواری حضرت عائشة رضی اللہ تعالی عنہا کی پوری زندگی اس کے لئے وقف تھی ،حضرت رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں عورتوں کے مسائل پوچھنے کے لئے عموما عائشہ رضی اللہ عنہا ہی واسطہ ہوتی،اس لئے اس میدان میں آج کل خواتین کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کی نزاکت کا احساس کرکے اللہ تعالی کے مقدس دین کی خدمت کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے بروئے کار لائیں عورتوں کی جماعتوں کی تشکیل میں محارم کی موجودگی ،پردہ کی رعایت،باہمی اختلاط سے حد درجہ پرہیز اور ہر ایک صنف کے لئے الگ الگ مقامات پر محنت کرنےکا اہتمام ہو تو شرعا اس کی گنجائش موجود ہے ۔
لمافی: "القران مجید"
قال اللہ تعالی:وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَيُطِيعُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓۚ أُوْلَٰٓئِكَ سَيَرۡحَمُهُمُ ٱللَّهُۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٞ.(التوبة:72)
وفی:"صحيح مسلم"
عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر سفرا يكون ثلاثة أيام فصاعدا إلا ومعها أبوها، أو ابنها، أو زوجها، أو أخوها، أو ذو محرم منها ».(باب سفر المرأة مع محرم الی حج وغیرہ الحدیث،1340)
وفی:"رد المحتارعلى الدر المختار"
(وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة لأنه أغلظ، ولذا ثبت به حرمة المصاهرة كما يأتي(قوله على الراجح) عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر وهو الذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال عليه الصلاة والسلام «التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء» فلا يحسن أن يسمعها الرجل. اهـ. وفي الكافي: ولا تلبي جهرا لأن صوتها عورة(قوله وتمنع المرأة إلخ) أي تنهى عنه وإن لم يكن عورة (قوله بل لخوف الفتنة) أي الفجور بها قاموس أو الشهوة. والمعنى تمنع من الكشف لخوف أن يرى الرجال وجهها فتقع الفتنة لأنه مع الكشف قد يقع النظر إليها بشهوة.(مطلب في ستر العورة1/406)
وفی:"البحر الرائق"
فإن أرادت أن تخرج إلى مجلس العلم بغير رضا الزوج ليس لها ذلك فإن وقعت لها نازلة إن سأل الزوج من العالم أو أخبرها بذلك لا يسعها الخروج وإن امتنع من السؤال يسعها من غير رضا الزوج وإن لم تقع لها نازلة لكن أرادت أن تخرج إلى مجلس العلم لتتعلم مسألة من مسائل الوضوء والصلاة فإن كان الزوج يحفظ المسائل ويذكر عندها فله أن يمنعها وإن كان لا يحفظ فالأولى أن يأذن لها أحيانا وإن لم يأذن فلا شيء عليه ولا يسعها الخروج ما لم يقع لها نازلة.(باب نفقة الامة المنكوحة4/212)