جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
کفریہ کلمات کے بعد تجدید ایمان و نکاح کاحکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
اگر کوئی بندہ غصے کی حالت میں یہ کہے کہ میں خدا سے بھی نہیں ڈرتا (العیاذ باللہ )تو کیا یہ الفاظ کفر ہے کہ نہیں اور اس سے نکاح پراثرپڑتاہےیا نہیں؟۔
واضح رہےکہ کسی شخص نے ایسا کلمہ بولا جس سے متفقہ طور پر کفر لازم آتا ہو تو اس پر تجدیدایمان کے ساتھ تجدید نکاح بھی لازم ہے،تجدید ایمان کے بعدتجدید نکاح اگر نہیں کیا تو ساری عمر حرام کاری میں مبتلا رہنے کی سزا کا مستحق ہوگا،اللہ تعالی معاف کر دے تو الگ بات ھےاورخدانخواستہ تجدید ایمان اگر نہیں کیا اور کفریہ الفاظ سے توبہ نہیں کی یہاں تک کہ اس کی موت آگئی تو ہمیشہ کیلئے جہنم میں جلے گا،پھر اس کے لئے معافی نہیں ہوگی۔
لمافی: "مجمع الانهر"
ما يكون كفرابا لاتفاق يوجب ن العمل كما فى المرتد وتلزم اعادة الحج ان كان
قدحج ، ويكون وطؤه حيننذ مع امرأته ،زنا، والولد الحاصل منه في هذه الحالة ولدالزنا... وماكان في كونه كذا اختلاف يؤمرقائله تجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذالک احتیاطا وما كان خطا من الالفاظ لايؤجب الكفر فقائله مومن على حاله ولا يؤمر بتجديد النكاح ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك.(393/4)
وفى: "در المختار"
ما يكون كفراتفاقا يبطل العمل والنكاح .... وما فيه اختلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة
وتجديد النكاح.(246/4 ، باب المرتد کتاب الجہاد ، ط: سعید )
وفي: "شرح فقه الاكبر"
ومن قال "انابرى من الاسلام" ... يكفر في هذه الصورة بلاخلاف(227)
وفى "بزازية على هامش الهندية":
اذا وصف الله بما لا يليق يكفر
(223/6، کتاب الفاظ تكون اسلاما وكفرا)
وفي: "الهنديه"
(281/2، طبع هكذا الاستهزاء باحكام الشرع كفر)