جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
سجدہ میں زمین سے پاؤں اٹھانےکاحکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
نماز کےدوران حالت سجدے میں ٹانگ اٹھانے کا کیا حکم ہے؟-
سجدہ کے دوران دونوں پیروں کو زمین پررکھناضروری ہے، اگر پورے سجدے میں دونوں پاؤں کوزمین سے بالکل اٹھائے رکھاتوسجدہ ادا نہیں ہوگا، کم از کم ایک انگلی بھی سجدہ میں ایک رکن (سبحان اللہ کہنے) کی مقدار زمین سے لگ گئی تو فرض ادا ہوجائے گا، لیکن عذر کے بغیر ایک پاؤں کو بھی اٹھائے رکھنا مکروہِ تحریمی ہے؛البتہ عذر ہو تو مکروہ نہیں ہوگا لہذا اگر کسی شخص کے سجدہ کے دوران دونوں پاؤں زمین پر رہتے ہیں تو اس کا سجدہ ادا ہوجائے گا، اور اگر دونوں پاؤں سجدہ کے دوران بالکل بھی زمین پر نہیں رہتے تو سجدہ اداء نہیں ہوگا اور نماز بھی نہیں ہوگی،اگر سجدہ کے دوران پاؤں زمین پر رہتے ہیں درمیان میں یا سجدہ کے شروع اور آخر میں زمین سے اٹھ جاتے ہیں تواگریہ عذرکی وجہ سے ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے اور اگرعذر نہ ہوتو مکروہ ہوگا۔
لمافی: "رد المحتار"
(ومنها: السجود) بجبهته وقدميه، ووضع إصبع واحدة منهما شرط.
(قوله: وقدميه) يجب إسقاطه؛ لأن وضع إصبع واحدة منهما يكفي كما ذكره بعد ح. وأفاد أنه لو لم يضع شيئاً من القدمين لم يصح السجود وهو مقتضى ما قدمناه آنفاً عن البحر، وفيه خلاف سنذكره في الفصل الآتي(1/ 447)
وفیه: "أیضأ"
"وفيه يفترض وضع أصابع القدم ولو واحدةً نحو القبلة وإلا لم تجز، والناس عنه غافلون.
ويؤيده ما في شرح المجمع لمصنفه حيث استدل على أن وضع اليدين والركبتين سنة بأن ماهية السجدة حاصلة بوضع الوجه والقدمين على الأرض ... إلخ وكذا ما في الكفاية عن الزاهدي من أن ظاهر الرواية ما ذكر في مختصر الكرخي، وبه جزم في السراج فقال: لو رفعهما في حال سجوده لايجزيه، ولو رفع إحداهما جاز. وقال في الفيض: وبه يفتى هذا، وقال في الحلية: والأوجه على منوال ما سبق هو الوجوب لما سبق من الحديث اهـ أي على منوال ما حققه شيخه من الاستدلال على وجوب وضع اليدين والركبتين، وتقدم أنه أعدل الأقوال فكذا هنا، فيكون وضع القدمين كذلك واختاره(1/ 499)