جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
منکوح کے دو نام ہوں، تو مجلس نکاح میں کونسا نام لیا جائے گا؟
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں!
کہ ایک لڑکے کا نام بوقت پیدائش عبدالملوک رکھا گیا اور بعد میں اس کا نام عبدالمالک رکھا گیا، تو اس لڑکے کا نکاح کس نام سے ہوگا؟۔
واضح رہے کہ نکاح کے جواز کی شرط یہ ہے کہ منکوح(جس لڑکے کا نکاح کیا جارہا ہے)
گواہوں کے نزدیک مجہول (نامعلوم) نہ رہے، بلکہ اپنے غیر سے کسی طرح ممتاز ہوجائے، اگر منکوح حاضر ہے، تو اس کی طرف اشارہ کر دینا کافی ہے، اور اگر غائب ہے، تو اگر نام کی وضاحت کیے بغیر بعض اوصاف سے اس کی تعیین ممکن ہے، تو نام لینے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر اوصاف سے تمیز ممکن نہ ہو، تو اس کا نام لینا ضروری ہے، بلکہ اگر اس کے نام سے بھی تعین نہ ہو تو باپ، دادا کا نام لینا بھی ضروری ہے، خلاصہ یہ کہ ابہام ختم ہوجائے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر اس لڑکا کے دونوں ناموں کے بارے میں حاضرینِ مجلس کو پتہ ہو، تو کوئی سا بھی نام لینے سے نکاح ہوجائے گا، ورنہ جس نام سے زیادہ مشہور ہے، وہی نام نکاح کرتے وقت لیا جائے۔
لمافی "رد المحتار":
(قوله: ولا المنكوحة مجهولة)۔۔۔۔ولو جرت مقدمات الخطبة على واحدة منهما بعينها لتتميز المنكوحة عند الشهود فإنه لا بد منه رملي.قلت: وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد وهي واقعة الفتوى؛ لأن المقصود نفي الجهالة، وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود، وإن لم يصرح باسمها كما إذا كانت إحداهما متزوجة، ويؤيده ما سيأتي من أنها لو كانت غائبة وزوجها وكيلها فإن عرفها الشهود وعلموا أنه أرادها كفى ذكر اسمها، وإلا لا بد من ذكر الأب والجد (15/3، ط: دار الفکر)