جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
بغیر گواہ کے نکاح کرنےکاحکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
میری منگنی ہو چکی ہے، ایک موقع پر میں نے اپنی منگیتر سے پوچھا: کیا تم مجھے نکاح میں قبول کرتی ہو؟ تو اس نے کہا: جی قبول کرتی ہوں! کیا ہمارا نکاح ہو گیا؟ کیا اگر کوئی ہم دونوں کو جاننے والے وہاں موجود ہوتے تو نکاح ہو جاتا؟۔
شرعاً نکاح منعقد ہونے کےلیے دو مسلمان مرد گواہو ں یا ایک مرد اور دوعورتوں کے سامنے زبان سے ایجاب وقبول کرنا ضروری ہوتاہے، بغیر گواہوں کے لڑکے اور لڑکی کا ایجاب وقبول نکاح کے لیے کافی نہیں، اس سے شرعاً نکاح منعقدنہیں ہوتا؛ لہذا آپ کا بغیر گواہوں کےمحض ایجاب وقبول کرنے سےنکاح منعقد نہیں ہوا؛ لہذا آپس میں میل ملاقات یا میاں بیوی والے تعلقات رکھنا ہرگز جائز نہیں۔
اور اگر آپ دونوں کے ایجاب اور قبول پر کم از کم دو مسلمان گواہ موجود ہوتے تو دونوں کےعاقل بالغ ہونے کی صورت میں آپ دونوں کا نکاح منعقد تو ہوجاتا،لیکن یہ پسندیدہ نہیں ہے،بلکہ والدین یا اولیاء کے ذریعہ مسجد میں نکاح کروانا چاہیے؛کیوں کہ شریعتِ مطہرہ نےاسلامی معاشرے کو جنسی بے راہ روی سے بچاکر تسکینِ شہوت کے لیے اور اسے اعلی اَقدار پر استوار کرنے اور صالح معاشرے کی تشکیل کے لیے نکاح کا حلال راستہ متعین کیا ہے، اور نکاح کی صورت میں ہم بستری و جسمانی تعلقات قائم کرنے کو حلال کردیاہےجب کہ اس کے علاوہ تسکینِ شہوت کے دیگر تمام ذرائع کوحرام قرار دیاہے۔ نیز نکاح چوں کہ تسکینِ شہوت کا حلال ذریعہ ہے اس وجہ سے نکاح کے اعلان کے حکم کے ساتھ ساتھ مساجد میں نکاح کی تقریب منعقد کرنے کی ترغیب بھی دی ہے؛ تاکہ اس حلال وپاکیزہ بندھن سے بندھنے والے افراد پرحرام کاری کاالزام لگانےکاموقع کسی کونہ ملے اور ایک پاکیزہ معاشرہ وجود میں آسکے جونسلِ انسانی کی بقا کا ذریعہ ہو۔
لمافی: "االسنن الترمذی"
’’عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ ...‘( باب ما جاء في إعلان النكاح)
وفي: "البحر"
(ولا ينعقد نكاح المسلمين) بصيغة المثنى (إلا بحضور شاهدين حرين بالغين عاقلين مسلمين) سامعين معاً قولهما فاهمين كلامهما على المذهب كما (اللباب في شرح الكتاب 3/ 3)
وفی: "الهداية"
ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف " قال رضي الله عنه: اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله عليه الصلاة والسلام " لا نكاح إلا بشهود (1/ 185)