جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
لڑکے اور لڑکی کو دودھ پلانے کی عمر
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
لڑکےاور لڑکی کے دودھ پینے کی عمر کی حد کیا ہے ؟۔
لڑکےاور لڑکی کو دودھ پلانے کی مدت میں کوئی فرق نہیں ہے، دونوں کے لیے ایک ہی مدت ہے، البتہ بچے یا بچی کو دودھ پلانے سے دو قسم کے اَحکام متعلق ہیں:
1۔ کس عمر تک دودھ پلانا حلال ہےبچے اور بچی کو دو سال کی عمر تک دودھ پلانے کی اجازت ہے، بغیر کسی شدید مجبوری کے دو سال سے زیادہ عمر کے بچے بچی کو دودھ پلانا جائز نہیں، تاہم اگر کوئی شدید مجبوری ہو تو ڈھائی سال کی عمر تک دودھ پلانے کی گنجائش ہے۔
2۔کس عمر تک کے بچے کو دودھ پلایا گیا تو حرمتِ رضاعت ثابت ہوگی اس سلسلے میں احتیاط اس میں ہے کہ ڈھائی سال کے اندر اگر بچےبچی کو دودھ پلایا تو حرمتِ رضاعت ثابت ہوجائے گی۔
لمافی: "الدر المختار"
"(قوله: ولم يبح الإرضاع بعد مدته) اقتصر عليه الزيلعي، وهو الصحيح كما في شرح المنظومة بحر، لكن في القهستاني عن المحيط: لو استغنى في حولين حل الإرضاع بعدهما إلى نصف ولا تأثم عند العامة خلافا لخلف بن أيوب اهـ ونقل أيضا قبله عن إجارة القاعدي أنه واجب إلى الاستغناء، ومستحب إلى حولين، وجائز إلى حولين ونصف اهـ.قلت: قد يوفق بحمل المدة في كلام المصنف على حولين ونصف بقرينة أن الزيلعي ذكره بعدها، وحينئذ فلا يخالف قول العامة تأمل".(211 /3)