جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
شادی شدہ آدمی کاتبلیغ میں سال کے لیےجانا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
تبلیغی حضرات شادی شدہ ہونے کے باوجود سال اندرون و بیرون کے لئے جاتے ہیں یہ جاٸز ھے یانہیں؟-
واضح رہے کہ چار ماہ کے اندر اندر بیوی کی اجازت کے بغیر بیوی سے دور رہنے کی اجازت ہے ،اس سے زائد عرصہ میں بیوی سے اجازت لینی چاہیے ، بیوی کے اجازت کے بغیر جائز نہیں،نیز اجازت کے باوجود جواز تب ہے کہ دونوں میں سےکسی ایک کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا خدشہ نہ ہو ،ایسی صورت میں بیوی سے دور رہناجائز نہیں اگر چہ مدت کم ہو اور بیوی بھی راضی ہو ،اس اصول کی تائید میں علامہ شامی رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قصہ نقل کیا ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں شوہر کے لیے بیوی کی رضامندی سےسال اندرون اور بیرون میں جانا تب جائز ہے جب فتنہ کا خطرہ نہ ھو اگر فتنہ کاخطرہ ھو تو ناجاٸز ھے-
لمافی: "ردالمحتار"
ولا يبلغ الإيلاء إلا برضاها،(قوله ولا يبلغ مدة الإيلاء) تقدم عن الفتح التعبير بقوله ويجب أن لا يبلغ إلخ. وظاهره أنه منقول، لكن ذكر قبله في مقدار الدور أنه لا ينبغي أن يطلق له مقدار مدة الإيلاء وهو أربعة أشهر، فهذا بحث منه كما سيذكره الشارح فالظاهر أن ما هنا مبني على هذا البحث تأمل، ثم قوله وهو أربعة يفيد أن المراد إيلاء الحرة، ويؤيد ذلك أن عمر - رضي الله تعالى عنه - لما سمع في الليل امرأة تقول: فوالله لولا الله تخشى عواقبه لزحزح من هذا السرير جوانبه فسأل عنها فإذا زوجها في الجهاد، فسأل بنته حفصة: كم تصبر المرأة عن الرجل: فقالت أربعة أشهر، فأمر أمراء الأجناد أن لا يتخلف المتزوج عن أهله أكثر منها، ولو لم يكن في هذه المدة زيادة مضارة بها لما شرع الله تعالى الفراق بالإيلاء فيها.
(کتاب النکاح ،باب القسم بین الزوجات3/203،ط:سعید)