جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
ہاتھ پر ایلفی لگ جانے کی صورت میں وضواورغسل کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
ہاتھ پر ایلفی لگی ہو تو اس سے غسل یا وضو کرنے سے وضو ہو جائے گا یا نہیں کوشش کے باوجود کچھ نا کچھ ایلفی ضرور لگی رہ جاتی ہے، جو کہ غسل کے بعد کبھی کبھار نظر بھی آجاتی ہے تو اس سے دوبارہ وضو یا غسل کرنا پڑے گا یا نہیں؟-
وضو اور غسل کے صحیح ہونے کے لیے اعضاءِ مغسولہ کو اس طور پر دھونا ضروری ہوتا ہے کہ کوئی حصہ خشک نہ رہے، پس ایلفی جسم کے جس حصہ پر لگتی ہے، اس حصہ تک پانی پہنچنے سے مانع ہوتی ہے، جس کے سبب وضو اور غسل درست نہیں ہوتا، لہذا اگر ایلفی جسم کے کسی حصے پر لگ جائے تو اس کو ہٹانے کے بعد وضواور غسل کرنا ضروری ہوگا، ہٹائے بغیر وضواورغسل کرنے کی صورت میں وضواور غسل نہیں ہوگا، البتہ اگر حتی المقدور کوشش کے باجود نہ نکلے، اور جسم کے زخمی ہونے کا خطرہ ہو تو اس صورت میں جسم زخمی کرنے کی ضرورت نہ ہوگی، کوشش کے بعد وضواورغسل کرنے سے وضواور غسل ھوجاٸےگا۔
پھر اگر وضواورغسل کے بعد ہاتھوں پر ایلفی لگی نظر آئے اور وہ ایسی تھی جو وضواورغسل سے پہلے کوشش سے نکل سکتی تھی تو وضواورغسل درست نہیں ہو گا، ایلفی ہٹا کر اس جگہ کو دوبارہ دھونا ضروری ہو گا، لیکن اگر حتی المقدور کوشش کے باوجود وہ نہ ہٹ سکی اور وضواورغسل کر لیا تو ایسا وضو اور غسل درست ہو جاتا ہے۔
لمافی: "القران مجید"
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًاإِلَّاوُسْعَهَا( البقرة:٢٨٦)
وفی: "تفسیر قرطبی"
"قوله تعالى : {لايكلف الله نفسا إلا وسعها} التكليف هو الأمر بما يشق عليه وتكلفت الأمر تجشمته ، حكاه الجوهري . والوسع : الطاقة والجدة ."
وفی: "النھدیة"
"وفي الجامع الصغير: سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في أظفاره الدرن أو الذي يعمل عمل الطين أو المرأة التي صبغت أصبعها بالحناء، أو الصرام، أو الصباغ قال: كل ذلك سواء يجزيهم وضوءهم؛ إذ لايستطاع الامتناع عنه إلا بحرج، و الفتوى على الجواز من غير فصل بين المدني والقروي."
(کتاب الطہارۃ:1 /4،طبع: دار الفکر)