جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مسافر امام مقتدی مقیم کی نیتوں کا مسئلہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کا امام مسافر ہے اور دو رکعت کی نیت کرتا ہے مقتدی مقیم ہیں امام کی متابعت کی وجہ سے
دو رکعت کی نیت کرے یا چار کی نیت کرے؟۔
واضح رھے کہ امام دو رکعت پڑھتا ہے اس لئے وہ دو رکعت کی نیت کرے گا۔ اور مقتدی چار رکعت کی نیت کرے۔ اس لئے کہ اس کے ذمہ چار واجب ہیں۔
لمافي: "الدر المختار"
وصح اقتداء المقيم بالمسافر في الوقت وبعده فاذا قام الـمـقـيــم الــى الاتمام لايقرأ ولا يسجد للسهو في الأصح لأنه كاللاحق.
(كتاب الصلاة، ۲/۲۱۰،۶۱۱، ط، دار عالم الكتب رياض)
وفى: "الهندية"
وان صلى المسافر بالمقيمين ركعتين سلم وأتم المقيمون
صلاتهم (الباب الخامس عشر في صلاة المسافر 1/ 142)