جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
عورت کاذبیحہ کیساہے؟
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کیاعورت کاذبیحہ مرد ہو یا نہ ہو تو جائز یا ناجائزہے؟
واضح رہےکسی جانور کو ذبح کرنے کے لیے کوئی مرد موجود نہ ہو یا عام حالات میں جب کہ جانور ذبح کرنے کے لیے مرد موجود ہو دونوں صورتوں میں اگر عورت ذبح کے طریقے سے واقف ہو تو عورت کا جانور ذبح کرنا جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ۔
لمافی: "البحر الرائق"
" قال رحمه الله ( وحل ذبيحة مسلم وكتابي ) ... قال رحمه الله (وصبي وامرأة وأخرس وأقلف ) يعني تحل ذبيحة هؤلاء ۔"(191/ 8)
وفی: "الدر المختار"
وشرط كون الذابح مسلما حلالا خارج الحرم إن كان صيدا فصيد الحرم لا تحله الذكاة في الحرم مطلقا أو كتابيا ذميا وحربيا إلا إذا سمع منه عند الذبح ذكر المسيح فتحل ذبيحتما ولو الذابح مجنونا أو امرأة أو صبيا يعقل التسمية والذبح ويقدر (296/6)