جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
ایک مسجد میں بیک وقت متعدد جماعت کرانا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
ایک مسجد میں ایک وقت میں کئی جماعت اداء کرنا کیسا ہے؟۔
واضح رہےمسجد میں بیک وقت فرض نماز کی ایک سے زیادہ جماعتیں کرانا مکروہِ تحریمی ہے، اس سے لوگوں کے دلوں سے جماعت کی اہمیت وعظمت ختم ہوجائے گی، مقصدِ جماعت بھی فوت ہوگا اور اختلاف و انتشار بھی لازم آئے گا، اور اگر یکے بعد دیگرے جماعت کرائیں تو اگر وہ مسجد ایسی ہے کہ اس میں پنج وقتہ نماز کے لیے امام، مؤذن مقرر ہیں اور اس مسجد کے نمازی معلوم ہیں تو بھی ایک سے زائد جماعت کرانا مکروہِ تحریمی ہے، اس سے پہلی جماعت کے افراد بھی کم ہوجائیں گے، اور پہلی جماعت سے صورتاً اعراض بھی لازم آئے گا، جب کہ شریعتِ مطہرہ میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی بڑی فضیلت اور تاکید آئی ہے، لہذا یہ عمل ناجائز ہے۔
لمافی "صحیح البخاري":
"عن أبي هريرة: أنّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «والذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر بحطب، فيحطب، ثم آمر بالصلاة، فيؤذن لها، ثم آمر رجلاً فيؤمّ الناس، ثمّ أخالف إلى رجال، فأحرق عليهم بيوتهم، والذي نفسي بيده لو يعلم أحدهم، أنه يجد عرقًا سمينًا، أو مرماتين حسنتين، لشهد العشاء(کتاب الأذان، باب وجوب صلاة الجماعة، 131ط: دار طوق النجاة)