جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
وکیل بالشراء کا اپنے لئے کمیشن رکھنے کا حکم
کیافرماتے ہے مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں!
اگر کوئی شخص کسی کو یہ کہے: بھائی آپ میرے لیےفلاں جگہ سے فلاں چیز لیتے آئیے گا ،میں پیسے دے دوں گا تو کیا چیز لانے والا بندہ اپنا کمیشن رکھ سکتا ہے؟
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو یہ کہتا ہے کہ آپ میرے لیے بازار سے فلاں چیز لے آؤ تو یہ توکیل (وکیل بنانے) کا معاملہ ہے، یعنی پہلے شخص نے دوسرے کو اپنا وکیل بالشراء بنایا ہے، اور وکالت جس طرح اجرت کے بدلے ہوتی ہے اسی طرح بطورِ تبرع بھی ہوتی ہے، اور بطورِ وکیل کوئی کام کرنے پر وکیل کو اجرت لینے کا حق اس وقت ہوتا ہے جب وکالت کے وقت صراحۃً اجرت کی شرط لگالی گئی ہو یا پھر یہ دوسرا آدمی (وکیل) معروف اجرت کے بدلے ہی کام کرنے میں مشہور ہو یعنی اس کا پیشہ ہی یہ ہو کہ وہ اجرت کے بدلہ کام کر کے دیتا ہو، لیکن اگر ان دونوں باتوں میں سے کوئی ایک بھی نہ پائی جائے تو پھر وکیل کو مؤکل سے اجرت/کمیشن لینے کا حق نہیں ہے، لہٰذا سوال میں پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ چیز لانے والا آدمی اپنا کمیشن نہیں رکھ سکتا ہے، البتہ اگر یہ چیز لانے والا آدمی ابتداء ہی میں اپنی محنت اور وقت کے بدلہ میں مؤکل سے اجرت طے کرلے تو پھر طے شدہ اجرت یا کمیشن وصول کرنا جائز ہوگا، یا اس شخص کے متعلق مشہور ہو کہ وہ یہ چیز اجرت کے بدلے ہی لوگوں کو لاکر دیتاہے (سپلائی کرتاہے) تو متعینہ اجرت لینے کی اجازت ہوگی۔
لما فی "شرح مجلہ":
"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل ...لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة".