جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
ضرورت کی وجہ سے سودی قرضہ لینا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ ایک شخص دوسرےشخص سے سودی قرض لےسکتاہےیانہیں؟-
واضح رہےکہ اگرسود لینےسےسائل کی مرادپیسےنہ ہونےکی صورت میں سودی قرضہ لینا ہے تو اس کاحکم یہ ہےکہ عام حالات میں سودی قرضہ لینایادیناقطعی حرام ہے،حدیث شریف میں ایسے شخص پرلعنت وارد ہوئی ہے،البتہ اگرپیسے نہ ہونے کی وجہ سے بھوک سے مرجانے کا خوف ہو،یاعزت کوشدیدخطرہ ہو،نیز اورکوئی صورت بھی اس سودی قرضے سے بچنے کی موجودنہ ہومثلاً:کوئی سامان،زیور یاجائیدادہوجو کہ فروخت کی جاسکے،یاکوشش کرنے کے باوجود بھی بغیرسودکے قرضہ نہ مل رہاہو،تواس صورت میں وہ شرعاًمعذور سمجھاجائےگا،اوربقدرِ ضرورت سودی قرضہ لینے کی گنجائش ہوگی۔
لمافی"الأشباه والنظائر":
"وفي القنية والبغية:يجوز للمحتاج الإستقراض بالربح."
:٧٩،الفن الأول،النوع الأول،القاعدۃ الخامسة،ط:دار الكتب العلمية)ـ
وفی"غمزعيون البصائر":
"قوله:يجوزللمحتاج الاستقراض بالربح،وذلك نحوأن يقترض عشرةدنانير مثلا،ويجعل لربهاشيئا معلومافي كل يوم ربحا."(:٢٩٤،:١،الفن الأول،النوع الأول،القاعدۃ الخامسة،ط:دارالکتب العلمية)-
وفيه ايضا:
’’ البتھ اگرانسان کے پاس کھانے پینے کوکچھ نہ رہے اوربے حددرجے کی پریشانی ہو،اوربلاسود قرض نہ ملتا ہوتوبقدرضرورت سودی قرض لینے کی گنجائش ہے،ہرحالت میں خداوندقدوس کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے،اس پربھروسہ ہوناچاہے،یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح.كذافي الأشباه والنظائر،: ١١٥۔‘‘
(:٣٠٧،:١٦،كتاب البيوع،باب الربوا،ط:ادارۃ الفاروق)-