جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
قرض کی رقم معاف کرنے کے بعد دوبارہ مطالبہ کرنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ ایک شخص کادوسرےشخص پر قرض تھاقرض لینےوالے کی درخواست پرقرض دینےوالا نے قرض کی رقم میں تخفیف کردی اورباقی رقم کی جلددینے کامطالبہ کردیا،لیکن اب وہ باقی رقم دینے میں بھی تاخیر کردیا،اب قرض دینے والے نے دوبارہ تخفیف کیاگیاقرض کاحصہ ادا کرنے کامطالبہ کردیاہے.جبکہ وہ تسلیم کرتا ہےکہ واقعی اس نے تخفیف کی تھی اب اسے منسوخ کرسکتا ہے، کیاشرعی طور پرقرض دینے والے کوایساکرنے کاحق حاصل ہے؟اب اگرقرض لینےوالےدینے والےکامطالبےکونہ مانتے ہوئے رقم نہ لوٹائےتواس کےلئےکیاحکم ہوگا؟-
واضح رہےکہ صورت مسئولہ میں جب قرض دینےوالااپنے قرض کی رقم میں سے کچھ حصہ مقروض کو اپنی رضاوخوشی سے معاف کرچکاہے اورخوداس کااقراربھی کرتاہےتواب معاف کردینےاورتخفیف کرنےکےبعددوبارہ اس حصہ کا مطالبہ کرناشرعاًجائزنہیں ہے۔حدیث شریف میں قرض کی معافی اورتخفیف پرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےکئی فضلیتیں ذکرفرمائی ہیں،جس قدرقرض کی رقم معاف کی گئی ہواس کےبقدرصدقہ کاثواب ملتاہے،نیزقرض کی معافی کی بناءپرقیامت کےدن مصائب سے چھٹکارانصیب ہوگااوربعض روایات میں ہے کہ عرش کاسایہ نصیب ہوگا۔اس لیے شرعاًواخلاقاً قرض کی کچھ رقم معاف کرنےکے بعد اب مطالبہ کرکے اپنےثواب کوضائع نہیں کرناچاہئے۔
لمافی"فتاوی عالمگیری":
الباب الخامس فی الرجوع فی الھبۃ،:۲،؛۳۶۰،۳۶۲۔ط:رشیدیھ کوئٹہ)-
لمافی"الفقھ الإسلامی وأدلتھ للزحيلی":
"يصح إبراء الدين الثابت في الذمةويعد الإبراءمن الدين تبرعا؛لأن فيه معنى التمليك، وإن كان في صورة إسقاط."(الفصل الرابع عشر:الإبراء،المبحث الأول ـتعريف الإبراءومشروعيته،: 6،:4370،ط:دارالفكرسوريَّة -دمشق)-
وفی"فتاوی شامیۃ":
"(و) الدين الصحيح(هو ما لايسقط إلابالأداء أوالإبراء) ولوحكمابفعل يلزمه سقوط الدين."(كتاب الكفالة،:5،: 302،ط:سعید)-
وفی"فتاوی ھندیھ":
"هبة الدين ممن عليه الدين جائزة قياسا واستحسانا... هبة الدين ممن عليه الدين وإبراءه يتم من غيرقبول من المديون ويرتدبرده ذكره عامة المشايخ رحمهم الله تعالى،وهوالمختار،كذا في جواهرالأخلاطي.(كتاب الهبة، الباب الرابع في هبة الدين ممن عليه،:4،:384،ط:دار الفكر)-