جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
حاملہ عورت کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ حاملہ عورت بیٹھ کرنماز پڑھ سکتی ہے؟حمل کی وجہ سےاٹھنے بیٹھنےمیں پریشانی ہوتی ہے؟-
واضح رہےکہ فرض اوروتر نماز میں قیام کرنا(یعنی کھڑےہوکرنماز پڑھنا)فرض ہے،البتہ اگرحمل کی وجہ سے اٹھنے بیٹھنے میں تکلیف ہوتی ہے یاحمل کو نقصان پہنچنے کااندیشہ ہوتاہے،تواس صورت میں کھڑے ہوکرنماز پڑھنامشکل ہوتوبیٹھ کرنماز پڑھنا جائز ہے،لہذاحاملہ عورت اگرنماز میں قیام پرقادرنہ ہوتووہ بیٹھ کرنماز پڑھ سکتی ہےاوراگررکوع وسجدے پربھی قادرنہ ہوتواس کےلیے اشارے سے نماز پڑھنا درست ہوگا۔
لمافی"فتاوی ھندیھ":
"(ومنها: القيام ) وهوفرض في صلاة الفرض والوتر،هكذا في الجوهرة النيرة والسراج الوهاج.(الباب الرابع في صفة الصلاة،الفصل الاول في فرائض الصلاة، :1،69، ط:رشيدية)-
وفی"فتاوی شامیۃ":
"(قوله القادرعليه)فلوعجز عنه حقيقة وهوظاهر أو حكماكمالو حصل له به ألم شديدأوخاف زيادة المرض وكالمسائل الآتية في قوله وقديتحتم القعود إلخ فإنه يسقط،وقديسقط مع القدرة عليه فيمالوعجز عن السجودكمااقتصرعليه الشارح تبعاللبحر."(باب فرائض الصلاۃ، :1،:442،ط:سعید)-