جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
خشک پیشاب کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ سوکھے ہوئے پیشاب کا کیا حکم ہے؟-
واضح رہےکہ اگرپیشاب کسی کپڑے،چادریاقالین پرلگاہواوروہ کپڑا،چادریاقالین خشک ہوجائے تووہ یہ چیزیں خشک ہونےکےبعد بھی ناپاک کہلائیں گی اور ان کپڑوں میں نمازاداکرنادرست نہیں ہوگا۔
اوراگرپیشاب کسی زمین پر گراہواوروہ زمین خشک ہوجائےتو وہ زمین خشک ہونےاورنجاست کا اثرباقی نہ رہنےکی صورت میں بغیر دھوئے پاک ہوجائےگی،اس پرنمازپڑھناتوجائز ہوگا لیکن پانی سے دھوئےبغیراس پرتیمم نہیں کیا جاسکتا۔
احتیاط یہ ہے کہ اس زمین یافرش کو پاک کرلیا جائے، اسے پاک کرنے کے دو طریقے ہیں-
1...ا س پرپانی ڈال کرصاف کیاجائے،پھرکپڑے سے خشک کرلیاجائے،اس طرح تین مرتبہ کرنے سے وہ پاک ہوجائےگا۔
2...مذکورہ فرش پر اتنی وافر مقدار میں پانی ڈال کر بہا دیا جائے کہ اس پر نجاست کاکوئی اثر باقی نہ رہے اورپھروہ خشک ہوجائے تواس طرح بھی وہ پاک ہوجائے گا۔
لمافی"الهندیة":
" الأرض إذا تنجست ببول واحتاج الناس إلی غسلها، فإن کانت رخوةً یصب الماء علیهاثلاثاً فتطهر،وإن کانت صلبةً قالوا:یصب الماءعلیها وتدلك ثم تنشف بصوف أوخرقة،یفعل کذلك ثلاث مرات فتطهر،وإن صب علیهاماءکثیرحتی تفرقت النجاسة ولم یبق ریحهاولا لونهاوترکت حتی جفت تطهر،(43/1)ـ
وفی"فتاویٰ قاضی خان":
" البول إذا أصاب الأرض واحتیج إلی الغسل یصب الماء علیه ثم یدلك وینشف ذلك بصوف أو خرقة فإذا فعل ذلك ثلاثاً طهر،وإن لم یفعل ذلك ولكن صب علیه ماء کثیرحتی عرف أنه زالت النجاسة ولایوجدفي ذلك لون ولاریح،ثم ترک حتی نشفته الأرض کان طاهراً". (المحیط البرهاني۱؍۳۸۲)-
وفی"البحرالرائق":
’’وإن كان اللبن مفروشاً فجف قبل أن يقلع طهر بمنزلة الحيطان،وفي النهاية:إن كانت الآجرة مفروشةً في الأرض فحكمها حكم الأرض، وإن كانت موضوعةً تنقل وتحول،فإن كانت النجاسة على الجانب الذي يلي الأرض جازت الصلاة عليها،وإن كانت النجاسة على الجانب الذي قام عليه المصلي لاتجوزصلاته‘‘. 1/235)-
وفی"حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح":
والمرادبالأرض مايشمله اسم الأرض،كالحجر والحصى والآجرواللبن ونحوها،إذاكانت متداخلةً في الأرض غيرمنفصلة عنها‘‘.(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح،كتاب الطهارة،باب الأنجاس والطهارة عنها،(1/231) ط:غوثيه)-