جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مال یتیم میں تصرف کرنا
کیافرماتےہےمفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ جب کسی شخص کے پاس ایک یتیم ہوں اوریتیم کے پاس مال بھی ہواوروہ شخص یتیم کی مصلحتوں کاخیال بھی رکھتاہوتوکیااس کےلیے یتیم کے مال میں تصرف کرنا جائز ہے یانہیں؟-
واضح رہےکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے یتیموں کی اصلاح کاحکم دیاہے اور احسن طریقوں کے بغیران کے اموال کے پاس جانے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے:
لمافی: القرآن کریم":
وَيَسـَٔلونَكَ عَنِ اليَتـٰمىٰ ۖ قُل إِصلاحٌ لَهُم خَيرٌ ۖوَإِن تُخالِطوهُم فَإِخوٰنُكُم ۚ وَاللَّهُ يَعلَمُ المُفسِدَ مِنَ المُصلِحِ.(٢٢٠).سورةالبقرة)ـ
ترجمہ :اور آپ سے یتیموں کے بارے میں بھی دریافت کرتے ہیں۔کہہ دیجئےان کی(حالت کی)اصلاح بہت اچھاکام ہے اوراگر تم ان سے مل جل کررہنا(یعنی خرچ اکھٹارکھنا) چاہوتووہ تمہارے بھائی ہیں اوراللہ خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والاکون ہے اوراصلاح کرنےوالا کون۔‘‘)ـ
فیھ ایضا:
وَلاتَقرَبوا مالَ اليَتيمِ إِلّا بِالَّتى هِىَ أَحسَنُ حَتّىٰ يَبلُغَ أَشُدَّهُ ۚ(٣٤).سورةالاسراء)ـ
ترجمہ:اور يتيم کے مال کے پاس بھی نہ جانامگرایسے طریق سے کہ وہ بہت ہی پسندیدہ یہاں تک کہ وہ جوانی کوپہنچ جائے۔‘‘
پس یتیم کے والی (اور سرپرست)کےلیے یہ واجب ہےکہ وہ ان دونوں آیتوں کے مطابق عمل کرے 'یعنی یتیموں کے اموال کی اصلاح کی جائے اور ان کے بڑھانے اوران کی حفاظت کرنے میں کوئی دقیقہ فرد گزاشت نہ کیاجائے خواہ انہیں تجارت میں لگایا جائے یاکسی قابل اعتماد شخص کو دیے دیے جائیں' جونفع میں اپنے نصف حصہ وغیرہ پرجیساکہ وہاں کاعرف ہوانہیں تجارت میں لگائے اوراگروہ سارانفع ہی یتیم کو دے دے تو یہ بہت بہتر اورافضل ہے۔باقی رہایتیم کے ولی(اور سرپرست ) کایتیم کے اموال میں ایسا تصرف کرنا جس سے یتیم کی بجائے خوداسے فائدہ پہنچے'اس کی ضرورتیں پوری ہوں'اوراس کی تجارت پروان چڑھے توجیساکہ ظاہر ہے یہ جائز نہیں کیونکہ یہ یتیم کے مال کی اصلاح نہیں ہےاور نہ احسن طریقے سے اس کے مال کے قریب جانا ہے اوراگروہ مال کو اس لیے خرچ کرے جب کہ استعمال نہ کرنے کی صورت میں مال کے ضائع یاچوری ہونے کا اندیشہ ہو اورکوئی ایسا قابل اعتمادشخص بھی نہ ہوجسے مال بطورمضاربت دیاجاسکے توایسی صورت میں مال کےضائع یاچوری ہونے کااندیشہ ہواورکوئی ایساقابل اعتمادشخص بھی نہ ہوجسے مال بطورمضاربت دیاجاسکے توایسی صورت میں مال کوخرچ کرنااصلاح اورمال یتیم کی حفاظت ہوگابشرطیکہ والی مال دارہواوراس کےپاس مال باقی رہنے کی صورت میں خطرے کی کوئی بات نہ ہو خلاصہ کلام یہ ہے کہ یتیم کےولی کےلیے واجب یہ ہےکہ وہ ایسےطریق کارکو اختیارکرے'جس میں یتیم کی بے حد اصلاح ہوکیونکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مفسدکون ہے اورمصلح کون اورپھروہ ہرایک کو اس کے عمل کے مطابق جزادے گا۔اگراچھے عمل کیاتوجزائے خیرسے نوازے گااوراگربراعمل کیا توبری سزا دے گا۔ہم دعاکرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں اپنی رضا کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔)ـ