جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
میراث میں سے بہنوں کو حصہ نہ دینااورترکہ کی زمین کی زکات ان کودینا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ بہن کواس جائیداد سے زکوٰۃ دیناکہ جس میں بطورِ میراث کے اس کابھی حصہ ہو،جائز ہے؟تفصیل اس طرح ہے کہ ہمارے علاقہ میں لوگ بہنوں کوجائیدادمیں میراث کاحصہ نہیں دیتے، اسی جائیداد سے بہنوں کو زکوٰۃدیتے ہیں،چوں کہ جائیدادمیں بہن کاحصہ بھی ہے،توکیااس جائیداد کی زکوٰۃ بہن کودینا جائز ہے؟-
واضح رہےکہ مورث کی وفات کےبعدتمام ورثاءاس کےترکہ میں اپنے اپنے شرعی حصوں کےحساب سے مستحق ہوتے ہیں،کسی بھی ایک وارث کے لیےدوسرے وارث کے حصے پرقبضہ کرنااوراسے اس کا حق نہ دیناناجائزاورحرام ہے اورناحق مال کھانےکےزمرے میں ہے اورحدیث شریف میں ہے کہ:جس نےکسی کی ایک بالشت زمین پربھی ظلماًقبضہ کیا،توکل قیامت کےدن وہ زمین اس کے گلے میں سات زمینوں کےبرابرطوق بنا کر ڈالی جائے گی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں بھائیوں پرلازم اورضروری ہے کہ بہنوں کاحصہ قبضہ کرنے اوران کو ان کا حصہ نہ دینے پراللہ کےحضورصدقِ دل سے توبہ اور استغفارکریں اورجلدازجلداپنی بہنوں کومیراث سے ان کاحصہ ادا کریں، ورنہ کل قیامت کے دن اللہ کی ناراضگی اور اس کے عذاب کے مستحق ہوں گے۔
باقی جہاں تک بہنوں کو میراث کی زمین کی زکوٰۃ دینے کاسوال ہے،تویہ بات واضح رهے کہ زکوٰۃ اس زمین پرلازم ہوتی ہے،جو تجارت کی نیت سے خریدی جائے اوراس پرسال گزر جائےتواس کی قیمت پر زکوٰۃ لازم ہوتی ہے۔
موروثہ زمین پربھی تقسیم سے قبل زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی،نیزاگر زمین ہی تقسیم کرکے دی جائے تواس پربھی اس وقت زکات لازم نہیں ہوتی جب تک اسے فروخت نہ کردیاجائے،اور اگرتقسیم کے وقت زمین فروخت کرکے نقد رقم دی جائےتوجو نقد رقم جائے گی اس کی زکوٰۃ اس کے سابقہ مال کے ساتھ ملاکر ادا کی جائے گی۔
البتہ اگرپھر بھی بھائی بہنوں کوحصہ نہ دیں اوربہنیں مستحقِ زکات بھی ہوں،توان کوزکات دی جاسکتی ہے۔
لمافی"قرآن کریم":
"وَلَاتَأْكُلُواأَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ."(البقرة:188)ـ
وفی"صحیح بخاری":
"من أخذشبرا من الأرض ظلما،فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."(كتاب بدءالخلق،باب ماجاءفي سبع أرضين)-
وفی"بدائع الصنائع":
"وأماالدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلاعن شيء سواءوجب له بغير صنعه كالميراث،أو بصنعه كما لوصية،أو وجب بدلاعما ليس بمال كالمهر،وبدل الخلع،والصلح عن القصاص،وبدل الكتابة ولازكاة فيه مالم يقبض كله ويحول عليه الحول بعدالقبض.(کتاب الزکوٰۃ،2،:10، ط:دارالکتب العلمية)-