جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
ہاتھ میں کینولا لگنے کی حالت میں وضوکرے یاتیمم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ اگرہاتھ میں کینولا (canola)لگاہوتونمازکےلیے وضوکس طرح کیاجائے؟کیااس صورت میں تیمم کیاجاسکتاہے؟نیزباقی اعضاءپرپانی سےوضوکر کےیاصرف کینولاوالےہاتھ پرتیمم کریں یاتمام اعضاءکا تیمم کریں؟-
واضح رہےکہ’’کینولا‘‘بیماری کے عذرکی وجہ سےلگایاجاتا ہے،’’کینولا‘‘لگاتےوقت جوخون نکلے اس سے تووضوٹوٹ جاتا ہے،لیکن اسکےبعدکینولےکےہوتےہوئے دوبارہ وضوکیاجاسکتا ہے،اوردوبارہ وضوکرلینے کی صورت میں جب تک کینولہ سےخون نہ بہے یاجسم سے خون نکل کرکینولے میں نہیں آئےتو اس’’کینولا‘‘کی وجہ سے وضونہیں ٹوٹے گااوراس کے ساتھ نمازپڑھنادرست ہوگا،نیزاگروضو میں کینولے پرپانی لگانا نقصان دہ ہوتوصرف کینولے پرہاتھ گیلاکرکے مسح کرلےاورباقی وضو پوراکرے،ایسی صورت میں تیمم کرنادرست نہیں ۔
لمافی"الدرالمختاروحاشية ابن عابدين (ردالمحتار":
"(وينقضه)خروج منه كل خارج۔ (نجس) بالفتح ويكسر(منه)أي من المتوضئ الحي معتاداًأولا،من السبيلين أولا،(إلى ما يطهر)-بالبناء للمفعول:-أي يلحقه حكم التطهيرثم المراد بالخروج من السبيلين مجرد الظهور، وفي غيرهما عين السيلان ولو بالقوة،لماقالوا:لومسح الدم كلماخرج،ولوتركه لسال نقض وإلالا".134/1-)ـ