جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
پیشاب کےبعداستنجاءکرنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ اگرپیشاب کےقطرے نکل جائے توکیااستنجا ضروری ہے یاصرف وضوکرکے نماز پڑھ سکتے ہیں؟-
واضح رہےکہ اگر پیشاب کےقطروں کوڈھیلےیاٹشوپیپروغیرہ سےخشک کرلیاجائے،توپانی سےاستنجاءکیےبغیربھی وضو کرکےنمازپڑھنادرست ہے،البتہ پانی سےاستنجاءکرلینامستحب،اوراگرقطرے خشک نہ کرسکااوروہ نجاست مخرج سے متجاوزہوگئی تواگرقدردرہم یااس سےکم ہوتواس کادھوناواجب ہے اوراگرزائدہوتواس کادھونافرض ہےاسی طرح اگرپیشاب کےقطرات جسم یاکپڑےپرلگ جائے اورقدردرہم سےزائدہوتونمازسے قبل اس کادھوناضروری ہوگا۔
لمافی"الدرالمختارمع رد المحتار":
"أن الاستنجاءعلى خمس أوجه:اثنان
واجبان:أحدهما:غسل نجاسة المخرج في الغسل من الجنابة والحيض والنفاس كي لاتشيع في بدنه.
والثاني:إذاتجاوزت مخرجها يجب عندمحمدقل أوكثر وهوالأحوط؛لأنه يزيدعلى قدرالدرهم،وعندهمايجب إذاجاوزت قدرالدرهم؛لأن ما على المخرج سقط اعتباره،والمعتبرماوراءه.
والثالث:سنة،وهوإذالم تتجاوزالنجاسةمخرجها
والرابع:مستحب،وهوماإذا بال ولميتغوط فيغسل قبله.والخامس:بدعة،وهو الاستنجاءمن الريح.اھ" 336/1)-