جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مدعی پرگواہ جب کہ مدعی علیہ پرقسم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ دوآدمیوں کےدرمیان زمین کامعاملہ ہے،ایک کہتاہےمیں نے پانچ سال(5) کیلئےدیاہےزمین،دوسراکہتاہے نہیں چھ سال (6)کیلئےدیاہےدرمیان میں کوئی آدمی نہیں ہےاوردونوں قسم اٹھاتے ہیں۔ اب فیصلہ کیا ہوگا؟-
واضح رہےکہ صورتِ مسئولہ میں اگرمالک دعوی کررہاہےکہ میں نے پانچ سال(5)کیلئےدیاہےاوردوسرا شخص اس کاانکاری ہےکہ نہیں چھ سال(6)کیلئےدیاہےتوشریعت کی روشنی میں فیصلہ یوں ہوگا کہ دعوی دارکےذمہ گواہ پیش کرنالازم ہے،یعنی اگرپانچ سال کادعوی داراپنےدعوی پرگواہ پیش کردےتوفیصلہ اسکےحق میں ہوجائےگااوراگرپانچ سال کادعوی دارگواہ پیش نہ کرسکے تودوسراشخص جواس کا انکاری ہےاس کے ذمہ قسم ہے،یعنی وہ اس بات پرقسم کھائےکہ مذکورہ شخص نےپانچ سال کیلئےنہیں دیاہے،بلکہ چھ سال کیلئے ،اگروہ شخص قسم کھالےتوفیصلہ اُس انکاری شخص کےحق میں کردیا جائےگا۔
لمافی"الحدیث":
عَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ-صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"الْبَيِّنَةُعَلَى الْمُدَّعِي،وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:كتاب الإمارة والقضاء،باب الأقضيةوالشهادات،6/445ط:دارالفكر،بيروت)-
وفی"البحرالرائق":
(قَوْلُهُ:وَلَاوَجْهَ لِرَدِّالْيَمِينِ)أَيْ عَلَى الْمُدَّعِي،وَقَوْلُهُ:لِمَاقَدَّمْنَاهُ إشَارَةٌلِقَوْلِهِ وَلَاتُرَدُّالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعِي لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ الْبَيِّنَةُعَلَى الْمُدَّعِي"إلَخْ كِفَايَةٌ(كتاب الدعوى،باب التحالف،7/ 205ط:دارالكتاب)-