جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
موجودہ دورمیں قسم کا کفارہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ قسم کاکفارہ موجودہ دورکے حساب سے کیاہےاور کفارہ میں کتنی رقم دینی ہوگی؟کیااپنے بھائی بہنوں کودے سکتاہے یانہیں؟-
واضح رہےکہ قسم کاکفارہ یہ ہےکہ دس مسکینوں کودووقت کاکھاناکھلا دےیادس مسکینوں میں سے ہرایک کوصدقۃ الفطرکی مقدارکےبقدرگندم یا اس کی قیمت دے دے(یعنی پونے دوکلوگندم یااس کی رقم)اوراگرجودے تواس کادوگنا(تقریباً ساڑھے تین کلو)دے،یادس فقیروں کوایک ایک جوڑاکپڑاپہنادے۔اوراگرکوئی ایساغریب ہےکہ نہ توکھانا کھلاسکتاہےاورنہ کپڑادے سکتا ہےتومسلسل تین روزے رکھے،اگرالگ الگ کرکے تین روزے پورے کرلیےتوکفارہ ادانہیں ہوگا۔اگردوروزے رکھنے کے بعددرمیان میں کسی عذرکی وجہ سے ایک روزہ چھوٹ گیاتواب دوبارہ تین روزے رکھے۔
لہذااگرکسی انسان کےبھائی بہن مستحقِ زکاۃہوں توانہیں فدیہ دیناجائز ہے،مستحقِ زکاۃ سے مرادوہ شخص ہے جس کے پاس اس کی بنیادی ضرورت واستعمال(یعنی رہنے کا مکان،گھریلوبرتن،کپڑے وغیرہ)سے زائد،نصاب کےبقدر(یعنی صرف سونا ہوتوساڑھے سات تولہ سونا یاصرف چاندی ہوتوساڑھے باون تولہ چاندی یااس کی موجودہ قیمت کے برابر رقم یا)مال تجارت یاسامان موجودنہ ہواوروہ سید یاعباسی نہ ہو۔
لمافی"القرآن کریم":
﴿لايُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِفِي أَيْمانِكُمْ وَلكِنْ يُؤاخِذُكُمْ بِماعَقَّدْتُمُ الْأَيْمانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعامُ عَشَرَةِ مَساكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَاتُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْكِسْوَتُهُمْ أَوْتَحْرِيرُرَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْفَصِيامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذلِكَ كَفَّارَةُأَيْمانِكُمْ إِذاحَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواأَيْمانَكُمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾(المائدة:89)-
وفی"الدرالمختاروحاشية ابن عابدين":
"(قوله:أي مصرف الزكاةوالعشر)يشيرإلى وجه مناسبته هنا، والمرادبالعشرماينسب إليه كمامرفيشمل العشرونصفه المأخوذين من أرض المسلم وربعه المأخوذمنه إذامرعلى العاشرأفاده ح.وهومصرف أيضالصدقة الفطروالكفارةوالنذروغيرذلك)-