جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
نمازمیں ایک آیت چھوڑ کر اگلی آیت پڑھنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ اگرامام پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد کوئی سورت پڑھے،دوچھوٹی آیت پڑھنے کے بعدایک آیت چھوڑ دے اوراس کے بعد والی آیت پڑھے توکیاحکم ہے؟-
واضح رہےکہ اگرآیت چھوڑنے سےمعنی میں ایساتغیر پیدانہیں ہواجس سے نمازفاسدہوجاتی ہے توایسی صورت میں نمازدرست ہے،اوراگرایسا تغیرپیداہوگیاتونماز فاسدہوجائے گی،بہتریہ ہےکہ آیات کی تعیین کے ساتھ مسئلہ پوچھا جائے۔
عمومی حالت میں اگردوآیتوں کے درمیان میں ایک مکمل آیت بھولے سے چھوٹ جائے،اور اگلی اور پچھلی آیات سانس توڑ کرالگ الگ تلاوت کی گئی ہوں تونمازفاسد نہیں ہوتی۔اورسہواً ایسا ہونے کی وجہ سے مکروہ نہیں ہوگا۔
لمافی"الشامیۃ":
"ولوزادکلمةًأونقص کلمة أونقص حرفًاأوقدّمه أوبدله بآخرلم تفسدمالم یتغیر المعنی. 1/633
وفی"الدر المختار وحاشية ابن عابدين":
"يكره أن يفتح من ساعته كمايكره للإمام أن يلجئه إليه، بل ينتقل إلى آية أخرى لايلزم من وصلهامايفسد الصلاة أو إلى سورة أخرى أو يركع إذاقرأقدرالفرض كما جزم به الزيلعي:(623/1)-