جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
نماز پڑھنے کے بعد بدن سے بہتاہواخون دیکھنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ ایک شخص نماز پڑھ کر فارغ ہوا،بعد میں دیکھا کہ اس کے بدن سے خون بہہ گیا تھا،اس شخص کی نمازکا کیاحکم ہے؟وقت کے اندراوروقت کےبعد دیکھنےکا کیاحکم ہے؟اوراگرخروج عن التقلید بعدالعمل کرےتوکیاذمہ سے بری ہوگا؟-
واضح رہےکہ احناف کے ہاں اگرکسی شخص کےبدن سے خون نکل کربہہ جائےتواس سےوضوٹوٹ جاتاہے-
لمافی"سنن دارقطنی":
"قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الوضوءمن کل دم سائل"( سنن الدار قطنی،رقم:27)-
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ وضولازم ہے ہر بہتے ہوئے خون سے"اور وضونماز کے لیے شرط ہے،بےوضو ہونے کی صورت میں نمازادانہیں ہوتی ۔
چنانچہ اگرکوئی شخص نمازسے فارغ ہوکردیکھےکہ اسکے بدن سے خون بہہ گیاہے،تواگراس کویہ یقین ہوکہ نمازکے دوران یا اس سے پہلے خون بہہ گیاہےتو وہ نمازکااعادہ کرےگااوراگریہ یقین نہ ہو توپھراس پر اعادہ لازم نہیں۔نیز"خروج عن التقلید بعدالعمل"یعنی جب ایک شخص کوئی عمل كرے،اس كے بعداسے پتہ چلے کہ عمل فاسد ہوا ہے،لیکن دوسرے مذہب کے اصول کے مطابق وہ عمل فاسد نہ ہواہو,تواپنے عمل کودرست کرنے کےلیے خودکواپنے امام کی تقلید سےخارج متصور کرلے،تویہ فقہاے کرام کے ہاں جائزنہیں،لہذاایساکرنے سے ذمہ فارغ نہیں ہوگاـ
لمافی"سنن الکبری للبیھقی":
عن أبى هريرةؓ قال قال رسول الله -صلى الله علیه وسلم-:«لاصلاةلمن لاوضوء له،ولاوضوءلمن لم يذكر اسم الله عليه»(،كتاب الصلاة،باب التسمية على الوضوء،رقم:198،ج:1،ص:43)-
وفی"مختصر القدوری":
والمعاني الناقضة للوضوء: كل ما خرج من السبيلين، والدم والقيح والصديد إذا خرج من البدن فتجاوز إلى موضع يلحقه حكم التطهير۔(،كتاب الطهارة،:41)-
وفی"حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق":
(قوله وفي الدم من آخر ما رعف)وفي المحيط قال في الدم لايعيدحتى يستيقن؛ لأن الدم قديصيبه في الطريق۔(،كتاب الطهارة،:1:103)-
وفی"دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام":
الأصل إضافة الحادث إلى أقرب أوقاته الحادث :هو الشيءالذي كان غيرموجود ثم وجدفإذااختلف في زمان وقوعه وسببه فما لم تثبت نسبته إلى الزمان القديم ينسب إلى الزمن الأقرب منه(،المادة:1،:1،:28)-
وفی"درالمختارعلی صدرردالمختار":
وأن الحكم الملفق باطل بالإجماع،وأن الرجوع عن التقليدبعدالعمل باطل اتفاقا،وهوالمختارفي المذهب۔(،مقدمة،:1،)-