جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مسبوق کاامام کے ساتھ سجدہ سہواور سلام پھیرنے کاحکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ مسبوق سجدہ سہوکےسلام میں امام کی اتباع کرلی تواب وہ کیا کرے؟ـ
واضح رہےکہ اگرنمازباجماعت میں امام سجدہ سہوکرے تو مسبوق امام کے ساتھ سجدہ سہوتوکرے گا؛لیکن سجدہ سہو کے سلام میں امام کی پیروی نہیں کرے گا۔اوراگرمسبوق نے جان بوجھ کرامام کے ساتھ سجدہ سہوکا سلام پھیراتواس کی نمازفاسد ہوجائے گی،اسے ازسرنونماز پڑھنی ہوگی۔اورجان بوجھ کرسلام پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ مسبوق یہ جانتے ہوئےسلام پھیرےکہ ابھی اس کی ایک یاچندرکعتیں باقی ہیں،پس اگرکسی مسبوق نےمسئلہ نہ جاننے کی وجہ سےسلام پھیراتواس سے بھی نمازفاسد ہوجائے گی،یہ بھی جان بوجھ کرسلام پھیرنا ہے اورمسئلہ نہ جاننا عذرنہ ہوگا۔
اوراگرمسبوق نے امام کے ساتھ سجدہ سہوکاسلام بھول کریاسہواًپھیرایعنی: یہ سمجھا کہ میں مسبوق نہیں ہوں،میری نماز بھی مکمل ہورہی ہے تواس میں تین صورتیں ہیں:
پہلی صورت: مسبوق نے بھول کرامام کے السلام کہنے کے بعد السلام کہااوراس کے بعدیادآیاتووہ آخرمیں سجدہ سہوکرے گا۔
دوسری صورت: مسبوق نے بھول کرٹھیک امام کے ساتھ السلام کہاتوسجدہ سہو واجب نہ ہوگا؛البتہ یہ صورت عام طور پرپائی نہیں جاتی یا اس کاجاننا مشکل ہے؛اس لیے جب تک یقین کے ساتھ اس کاعلم نہ ہو،سجدہ سہوضرورکرے۔
تیسری صورت:مسبوق نے بھول کرامام سے پہلے سلام پھیرا،اس کاحکم یہ ہے کہ اس صورت میں مسبوق کی نمازپرکوئی فرق نہیں آئے گا اورنہ ہی آخرنماز میں اس پرسجدہ سہوواجب ہوگا؛لیکن یہ صورت عام طور پرپائی نہیں جاتی؛کیوں کہ کوئی مقتدی امام سے پہلے سلام نہیں پھیرتا۔
لمافی"ردالمختار":
قولھ:والمسبوق یسجدمع إمامھ:قیدبالسجود؛لأنھ لایتابعھ فی السلام؛بل یسجدمعھ ویتشھد،فإذاسلم الإمام قام إلی القضاء،فإن سلم فإن کان عامداًفسدتوإلالا،ولاسجودعلیھ إن سلم سھواًقبل الإمام أومعہ،وإن سلم بعدلزمھ لکونھ حینئذ منفرداً،بحر،وأرادبالمعیة المقارنة،وھونادرالوقوع،شرح المنیة،وفیھ:ولوسلم علی ظن أن علیھ أن یسلم فھوسلام عمدیمنع البناء۔(کتاب الصلاة،باب سجودالسھو۲:۵۴۶،۵۴۷،ط:مکتبة زکریا دیوبند)-
وفی"مصدرالسابق":
ثم قال:فعلی ھذایراد بالمعیة حقیقتھا،وھونادرالوقوع اھ،قلت:یشیرإلی أن الغالب لزوم السجود؛لأن الأغلب عدم المعیة،وھذا مما یغفل کثیر من الناس فلیتنبہ لہ(،کتاب الصلاة،آخرباب الإمامة،۲:۳۵۰،ط:مکتبة زکریادیوبند)-